آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
قطر کو تمام 13 مطالبات ماننا ہوں گے: عرب ملک
قطر کے مخالف چار عرب ملکوں نے کہا ہے کہ دوحہ کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے اصول پر مبنی چھ نہیں بلکہ ان 13 مطالبات کو بھی تسلیم کرنا ہو گا جو اس بحران کے آغاز پر پیش کیے گئے تھے۔
ایک اخباری کانفرنس میں سعودی عرب، عرب امارات، بحرین اور مصر نے کہا ہے کہ وہ قطر کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، لیکن وہ ان شرائط میں کوئی رعایت نہیں دیں گے۔
ان کہنا تھا کہ ہم قطر کو 'دہشت گردی سے تعاون کرنے اور مالی امداد فراہم کرنے سے روکنے کے لیے عملی اور نیک نیتی کی خواہش' پر مبنی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
یہ بیان 30 جولائی کو بحرین کے دارالحکومت منامہ میں چاروں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کے بعد دیا گیا۔
الجزیرہ ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک بیان میں بحرین کے وزیرِ خارجہ شیخ خالد بن احمد الخلیفہ نے کہا کہ 'چاروں ملک تصدیق کرتے ہیں کہ ان کی جانب سے کیے جانے والے تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہیں۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بیان بظاہر 11 روز قبل ان چار ملکوں کی جانب سے جاری کردہ اس بیان کی تردید کرتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ 13 مطالبات پر مزید اصرار کرنے کی بجائے نرمی کا راستہ اختیار کرتے ہوئے قطر چھ اصولوں پر عملدرآمد کرے۔
یاد رہے کہ قطر اور اس کے پڑوسی عرب ممالک کے درمیان کشیدگی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ گذشتہ ماہ سعودی عرب اور مصر سمیت چار عرب ممالک نے قطر پر خطے کو غیر مستحکم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔
قطری حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے ہمسایہ ممالک نے اپنی سرحدیں بند کر دی تھیں جب کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے کہا ہے کہ وہ قطر سے آنے اور وہاں جانے والی پروازیں بند کر دی ہیں اور قطری فضائی کمپنی قطر ایئرویز کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔
قطر پر الزام ہے کہ وہ ایران کی جانب نرم گوشہ رکھتا ہے، لیبیا اور یمن کے باغیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے اور اس نے اپنے سرکاری الجزیرہ چینل کی مدد سے دوسرے عرب ملکوں کے خلاف میڈیا وار شروع کر رکھی ہے۔