سربیا کی پہلی ہم جنس پرست وزیراعظم

محترمہ برانبک

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنمحترمہ برانبک اس سے پہلے بعض وزارتوں میں منظم کی حیثیت سے اپنی خدمات انجام دے چکی ہیں

بلقان کی ریاستوں میں سے سربیا جیسے قدامت پسند ملک کے صدر نے اپنا وزیراعظم مقرر کرنے کے لیے ایک ہم جنس پرست خاتون کو نامزد کیا ہے۔

صدر الیکزنڈر وؤچک نے وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے اینا برانبک کو منتخب کیا ہے۔

اس تقرری کے لیے پارلیمان کے ارکان کی جانب سے منظوری ملنی ضروری ہے لیکن اب وہ ایک رسمی عمل کی حد تک ہے کیونکہ پارلیمان میں صدر اور ان کے حامی جماعتوں کو زبردست اکثریت حاصل ہے۔

سربیا جیسے قدامت پسند ملک میں اب سے چند برس قبل تک شاید یہ ممکن نہ ہوتا کہ کسی ہم جنس پرست کو اس عہدے پر مقرر کیا جائے تاہم سربیا چونکہ یورپی یونین کی رکنیت کا خواہاں ہے اس لیے اس طرح کے اقدامات سے وہ یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہے کہ ملک میں رواداری میں اضافہ ہورہا ہے۔

اس کے باوجود صدر کے اتحاد میں شامل ایک جماعت کے رہنما ڈراگان مارکووچ پالما نے کہا کہ محترمہ برانبک ان کی وزیراعظم نہیں ہیں۔

وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد محترمہ برانبک کا نام بھی، آئرلینڈ کے وزیر ا‏عظم وارداکر اور لگژمبرگ کے وزیر اعظم زیویئر بیٹل ہی کی طرح، یورپ کے ہم جنس پرست وزرائے اعظم کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔

بلغراد میں بی بی سی کے نامہ نگار گائے ڈی لونی کا کہنا ہے کہ سربیا کی انتظامیہ میں وزیراعظم کا عہدہ علامتی ہے اور زیادہ تر اختیارات صدر کے پاس ہی رہیں گے۔

صدر نے محترمہ برانبک کی جنسیت یا جنس سے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک کی بہتری کے لیے کام کریں گی۔

سنہ 2010 میں دائیں بازو کے سخت گیر لوگوں کے حملوں کے بعد سے بلغراد میں ہم جنسوں کی ریلی پرمستقل تین برس تک پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

2014 میں اس کی اجازت دوبارہ دی گئی لیکن اس کے لیے سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کرنے پڑے۔