آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
لندن میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد 12 افراد گرفتار
برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں پولیس نے سنیچر کی شب دہشت گردی کے واقعات کے بعد 12 افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔
دہشت گردی کے ان واقعات میں سات افراد ہلاک اور 48 زخمی ہوئے تھے جبکہ تینوں حملہ آوروں کو پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔۔
یہ گرفتاریاں اتوار کی صبح لندن کے مشرقی علاقے بارکنگ میں کی گئی جہاں پولیس نے مبینہ طور پر ایک حملہ آور کے فلیٹ پر چھاپہ مارا۔
گرفتار کیے گئے افراد میں سات خواتین بھی شامل ہیں۔ اتوار کی شام پولیس نے گرفتار شدگان میں سے ایک 55 سالہ شخص کو بغیر کوئی الزام عائد کیے چھوڑ دیا ہے۔
اتوار کی صبح بارکنگ کے علاقے میں جس فلیٹ پر چھاپہ مار کارروائی کی وہاں کنٹرولڈ دھماکے بھی کیے گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ سنیچر کی رات دس بجے کے بعد لندن برج کے علاقے میں ایک سفید رنگ کی ویگن نے راہگیروں کو کچل دیا اور پھر وہ منڈیر سے ٹکرا گئی۔
پولیس نے اس حملے کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔
راہگیروں کو کچلنے کے بعد اس ویگن سے اترنے والے تین افراد نے پل کے جنوب میں واقع بورو مارکیٹ میں موجود لوگوں پر چاقو کے وار بھی کیے۔
اسسٹنٹ کمشنر مارک روئلے کا کہنا ہے کہ 36 افراد ہسپتال میں داخل ہیں جن میں سے 20 کی حالت تشویشناک ہے۔
برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ 10 بج کر آٹھ منٹ پر ملنے والی مدد کی پہلی کال کے آٹھ منٹ بعد مشتبہ افراد سے مدبھیڑ کے بعد پولیس اہلکاروں نے انھیں گولی مار دی تھی۔
شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے جبکہ برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا 'اب بہت ہو چکا۔'
لندن برج ریلوے اور ٹیوب سٹتشن پیر کو کھلنے کی توقع ہے۔
یہ برطانیہ میں گذشتہ تین ماہ میں دہشت گردی کی تیسری کارروائی ہے اور ان میں سے دو کا ہدف لندن ہی تھا۔
مارچ میں لندن کے ویسٹ منسٹر برج پر اسی قسم کے حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ دو ہفتے قبل مانچیسٹر میں ایک کنسرٹ کے بعد ہونے والے خودکش دھماکے میں 22 افراد مارے گئے تھے۔
دوسری جانب عالمی رہنماؤں نے لندن میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعے کی مذمت اور برطانیہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔
فرانس کے صدر ایمینوئل میکخواں نے کہا ہے کہ وہ ماضی سے بھی کہیں زیادہ برطانیہ کے ساتھ ہیں۔ اس واقعے میں زخمی ہونے والوں چار فرانسیسی شہری شامل ہیں۔
آسٹریلوی وزیراعظم میلکم ٹرنبل نے کہا کہ ان کی دعائیں اور پختہ یکجہتی برطانیہ کے ساتھ ہے۔ اس حملے میں دو آسٹریلوی شہری بھی متاثر ہوئے ہیں جن میں سے ایک ہسپتال میں ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ امریکہ برطانیہ کی ہر قسم کی مدد کرنے کے لیے اس کے ساتھ ہے۔