آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مانچیسٹر حملہ: قبل از وقت معلومات افشا کرنے پر برطانیہ امریکہ سے ناراض
برطانیہ کی وزیرِ داخلہ امبر رڈ نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے مانچیسٹر میں خودکش حملہ کرنے والے شدت پسند سلمان عبیدی کے بارے میں برطانیہ سے پہلے معلومات ظاہر کرنے پر انھیں غصہ آیا ہے۔
امبر رڈ نے کہا کہ برطانیہ تجسس کے عنصر کو برقرار رکھنے کے لیے معلومات کی ترسیل کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتا تھا۔
بی بی سی ریڈیو فور سے بات کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ نے کہا کہ انہوں نے امریکہ سے کہہ دیا ہے کہ ایسا دوبارہ نہیں ہونا چاہیے۔
امبر رڈ کہہ چکی ہیں کہ مانچیسٹر میں پیدا ہونے والا سلمان عبیدی برطانوی سکیورٹی ادروں کی نظروں میں تھا۔ برطانوی حکام کے مطابق مشتبہ خود کش حملہ آور کے والدین کا تعلق لیبیا سے ہے۔
انسداد دہشتگردی کے اہلکار اِس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ مشتبہ لوگوں کے نام وقت سے پہلے میڈیا میں نہ آنا کبھی کبھی ان کے لیے کتنا اہم ہوتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے مطابق زیرِ تفتیش شخص کا نام 36 گھنٹے تک میڈیا میں نہ آنے سے تحقیقات میں مدد ملتی ہے اور اس سے پہلے کہ مشتبہ شخص کے ساتھیوں کو یہ احساس ہو کہ پولیس انھیں ڈھونڈ رہی ہے انھیں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
مانچیسٹر کے حملہ آور کے بارے میں معلومات سب سے پہلے امریکہ میں سامنے آئیں اور امبر رڈ نے کہا کہ وہ اس بات کی تحقیق کریں گی کہ اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کی وجہ سے کس طرح وقت سے پہلے یہ معلومات منظر عام پر آ گئیں جبکہ برطانوی پولیس اور سکیورٹی ادارے نہیں چاہتے تھے کہ یہ عوام کے سامنے آئیں۔
انھوں نے کہا کہ برطانوی پولیس کا موقف بالکل واضح رہا ہے کہ وہ اپنے تحقیقاتی عمل کے تحفظ کے لیے معلومات کی ترسیل اپنی مرضی سے کرنا چاہتی ہے۔
'لہٰذا اگر معلومات دوسرے ذرائع سے باہر آ جائیں تو یہ غصے والی بات ہے۔ اسی لیے میں نے اپنے دوستوں سے کہہ دیا ہے کہ ایسا دوبارہ نہیں ہونا چاہیے۔'
بی بی سی کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایڈیٹر نورمن سمتھ کا کہنا ہے کہ مس رڈ کے غصے کا سبب یہ حقیقت ہے کہ مانچیسٹر میں خودکش حملے کی تحقیقات کے بارے میں اہم معلومات امریکہ میں میڈیا کو افشا کر دی گئی تھیں۔