آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فلپائن: منڈاناؤ جزیرے میں مارشل لا کے نفاذ کا اعلان
فلپائن کے صدر روڈریگو دوترتے نے فوج اور نام نہاد تنظیم دولت اسلامیہ سے منسلک جنگجوؤں کے درمیان تصادم کے بعد منڈاناؤ جزیرے پر دو مہینوں کے لیے مارشل لا کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔
حکام کے مطابق پرتشدد واقعات میں جنوبی جزیرے میں سکیورٹی فورسز کے تین افراد ہلاک ہو گئے۔
خیال رہے کہ منڈاناؤ میں کئی باغی مسلم گروپ برسر پیکار ہیں اور وہ زیادہ آٹونومی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مسٹر دوتیرتے نے مارشل لا لگانے کا اعلان روس کے اپنے دورے کے دوران کیا اور انھیں یہ دورہ مختصر کرکے وطن واپس آنا پڑا۔
مارشل لا کے تحت فوج کو قانون نافذ کرنے کے اختیارات مل جاتے ہیں اور وہ لوگوں کے بغیر کسی چارج کے طویل مدت تک حراست میں رکھ سکتے ہیں۔
اپنے روسی دورے میں صدر پوتن سے ملاقات کے دوران انھوں نے کہا کہ ان کے ملک کو دولت اسلامیہ اور ديگر جنگجوؤں سے لڑنے کے لیے مزید جدید اسلحوں کو ضرورت ہے۔
فوج کا کہنا ہے کہ منڈاناؤ جزیرے کا اہم شہر مراوی منگل کو اس وقت بھڑک اٹھا جب فوج نے ایک جنگجو تنظیم کے سربراہ کی تلاش شروع کی جس نے دولت اسلامیہ کے ساتھ وفاداری کا عہد کر رکھا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس شہر کی آبادی تقریبا دو لاکھ افراد پر مشتمل ہے۔
وزیر دفاع ڈیلفن لورینزانا نے بتایا کہ تصادم میں شامل جنگجو موتے گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔ مسٹر ڈیلفن نے مزید بتایا کہ جنگجوؤں نے ایک ہسپتال اور ایک جیل پر قبضہ کر رکھا تھا اور چرچ سمیت کئی عمارتوں کو نذر آتش کر دیا۔
مراوی فلپائن کے دارالحکومت منیلا کے جنوب میں تقریبا 800 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
فلپائن کے آئین میں صدر کو بیرونی حملے یا بغاوت کو روکنے کے لیے صرف 60 دنوں کے لیے مارشل لا نافذ کرنے کا اختیار ہے جبکہ پارلیمان میں اسے 48 گھنٹوں میں ختم کر سکتی ہے جبکہ سپریم کورٹ اس کے قانونی جواز پر نظر ثانی کر سکتا ہے۔