آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سوڈان کے صدر کی اسلامک اجلاس میں شرکت سے معذرت
افریقی ملک سوڈان کے صدر عمر البشیر نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ سعودی عرب میں ہونے والے اس اسلامک اجلاس میں حصہ نہیں لیں گے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مہمان خصوصی ہوں گے۔
صدر عمر البشیر، جنہوں نے اپنی غیر حاضری کا سبب 'ذاتی وجوہات' بتایا ہے، ان پر مبینہ طور پر جنگی جرائم ارتکاب کرنے کا الزام ہے اور خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکہ ان کی اس اجلاس میں موجودگی کے خلاف تھا۔
سوڈانی صدر کے دفتر سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق انھوں نے سعودی فرمانروا شاہ سلیمان سے اپنی شرکت نہ کرنے پر معذرت کی ہے لیکن اس کے علاوہ اور کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔
صدر عمر البشیر کی جگہ ان کی نمائندگی سوڈان کے وزیر مملکت طحہ ال حسین کریں گے۔
واضح رہے کہ 2009 اور 2010 میں انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے صدر عمر البشیر کو گرفتار کرنے کے لیے وارنٹ جاری کیے تھے جس میں ان پر دارفر میں نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کرنے کے الزامات لگائے گئے تھے جہاں تین لاکھ سے زائد افراد کا قتل ہوا تھا۔
صدر عمر البشیر نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
امریکی خبر ساں ادارے این بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ ان تمام لوگوں کو دعوت دینے کے خلاف ہے جن پر انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کی جانب سے الزامات عائد ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سعودی عرب میں ہونے والے اس اجلاس میں 50 سے زائد مسلم اور عرب ممالک کے سربراہان حصہ لیں گے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 'اسلام کے پر امن وژن' کے بارے میں اپنا خطاب پیش کریں گے۔
صدر ٹرمپ کا بحیثیت صدر یہ پہلا غیر ملکی دورہ ہے جس میں انھوں نے سب سے پہلے سعودی عرب کا دورہ کیا ہے اور اس کے بعد وہ اسرائیل اور ویٹیکن سٹی بھی جائیں گے۔