امریکی بیڑے کا رخ جزیرہ نما کوریا کی جانب نہ تھا

اطلاعات کے مطابق امریکہ کے ایک طیارہ بردار بحری جہاز اور دیگر جنگی بحری جہازوں کی شمالی کوریا کی جانب پیش قدمی کی خبر درست نہیں تھی بلکہ اس ’بیڑے‘ نے تو جزیرہ نما کوریا کی مخالف سمت سفر کیا تھا۔

گذشتہ ہفتے امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی ایک ٹویٹ میں ’بیڑا‘ روانہ کرنے کی بات کی تھی۔

امریکی بحریہ نے آٹھ اپریل کو کہا تھا کہ طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس کارل ونسن کے سٹرائیک گروپ نے دفاعی اقدام کے طور پر جزیرہ نما کوریا کی جانب سفر کیا تھا۔

لیکن یہ گروپ دراصل اختتام ہفتہ پر وہاں سے کافی دور تھا، وہ ہرمز سنڈا سے بحرِ ہند جا رہا تھا۔

امریکہ کا اب کہنا ہے کہ اسے آسٹریلیا کے ساتھ ٹریننگ مکمل کرنی ہے۔

امریکی پیسیفک کمانڈ نے منگل کو کہا کہ ان کا سٹرائیک گروپ اب حکم کے مطابق مغربی بحرِ ہند کی جانب سفر کر رہا ہے۔

اس سے پہلے اتوار کو شمالی کوریا کے میزائل پروگرام پر خدشات میں اضافے کے باعث امریکی فوج نے بحریہ کے سٹرائیک گروپ کو کوریائی خطے کے جانب پیش رفت کا حکم جاری کیا تھا۔

امریکی پیسفک کمانڈ نے اس تعیناتی کو خطے میں تیار رہنے کی حکمت عملی قرار دیا تھا۔

بی بی سی کوریا کے نامہ نگار سٹیفن ایونز کا کہنا ہے کہ اب یہ بات واضح نہیں ہے کہ یہ اقدام جان بوجھ کر دیا جانے والا دھوکا تھا جس کا مقصد شاید شمالی کوریا کے رہنما کم جو ان کو خوفزدہ کرنا تھا یا پھر منصوبہ بندی کی تبدیلی۔

شمالی کوریا نے حال ہی میں کئی جوہری تجربات کیے ہیں اور ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں یہ جوہری اسلحہ بنا سکتا جس میں امریکہ تک مار کرنے کی صلاحیت ہو سکتی ہے۔

شمالی کوریا نے اپنے مشرقی ساحل سنپو سے جاپان کے سمندر میں درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگراموں کے تجربات کی وجہ سے امریکہ اور شمالی کوریا کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔

اس سے قبل شمالی کوریا نے 15 اپریل کو صدر کم ال سنگ کے ایک سو پانچویں ویں یوم پیدائش کی تقریبات کے موقع پر اپنی جدید عسکری قوت کا مظاہرہ کیا تھا۔

اس موقع پر شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے قریبی ساتھی چوے ریونگ نے جو کہ ملک کے دوسرے سب سے طاقتور شخص سمجھے جاتے ہیں، خطاب کرتے ایک بار پھر امریکہ کو خبر دار کیا۔

انھوں نے کہا: 'اگر امریکہ ہمارے خلاف لاپرواہی پر مبنی اشتعال انگیزی کرتا ہے، تو ہماری انقلابی قوت فوری طور پر اس کا سنگین جواب دے گی۔ ہم بھرپور جنگ کا اور جوہری جنگ کا اپنے انداز میں جوہری حملے سے جواب دیں گے۔'

اس موقع پر پیانگ یانگ میں فوجیوں، ٹینک اور اسلحے کی پریڈ کی گئی۔