امریکہ کی پہلی مسلمان خاتون جج کی لاش دریا سے برآمد

امریکہ میں پولیس حکام کے مطابق ملک کی پہلی مسلمان خاتون جج نیویارک کے دریائے ہڈسن میں مردہ حالت میں پائی گئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ نیویارک کی اعلیٰ عدالت کی جج 65 سالہ شیلا عبدالسلام کی لاش بدھ کو مینہیٹن میں دریا کے مغربی کنارے پر تیرتی ہوئی پائی گئی۔

نیو یارک کی پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس نے مکمل لباس میں شیلا کو دریا سے باہر نکالا تو ان کی موت واقع ہو چکی تھی۔

پولیس کا مزید کہنا ہے کہ شیلا عبدالسلام کے خاوند نے ان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی تھی۔

پولیس کے مطابق شیلا کے اہلخانہ نے لاش کی شناخت کر لی ہے جب کہ پوسٹ مارٹم کے ذریعے موت کی وجہ معلوم کی جا رہی ہے۔

نیو یارک پوسٹ نے غیر مصدقہ ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ شیلا عبدالسلام نیویارک میں اپنے مکان سے بدھ کے روز سے لاپتہ تھیں اور ان کے خاندان والوں کی جانب سے تلاش کی تمام کوششیں ناکام رہی تھیں۔

واشنگٹن کی رہائشی شیلا کو 2013 میں اپیل کورٹ کا جج مقرر کیا گیا تھا اور وہ پہلی افریقن امریکی خاتون جج تھیں۔

کورٹ آف اپیل کی ویب سائٹ کے مطابق شیلا نے کولمبیا لا سکول سے گریجویٹ کیا اور مشرقی بروکلین سے اپنی پیشہ وارانہ زندگی کا آغاز کیا اور نیویارک ریاست کی نائب اٹارنی جنرل کے عہدے پر کام کیا۔

اپیل کورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق مختلف عدالتی عہدوں پر کام کرنے کے بعد انھیں 1991 میں نیویارک شہر کا جج مقرر کیا گیا۔