آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’عدالت نے اختیارات سے تجاوز کیا، سپریم کورٹ جاؤں گا‘
صدرڈّونلڈ ٹرمپ نے ریاست ہوائی کے جج کی جانب سے چھ مسلمان اکثریتی ملکوں سے شہریوں کی امریکہ آمد پر پابندی کے حکم کو معطل کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جج کا فیصلہ عدالتی اختیارات سے تجاوز ہے اور وہ اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔
ریاست ہوائی کے جج کے حکم کے بعد ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پہلے'اخیتارات سے تجاویز کی ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا: ’عدالتی فیصلے سے لگتا ہے کہ ہم کمزور ہیں لیکن یقین کریں اب ہم بالکل کمزور نہیں رہے۔'
امریکی ریاست ہوائی میں وفاقی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لگائی جانے والی نئی سفری پابندی کو شروع ہونے سے ایک گھنٹہ قبل معطل کر دیا ہے۔
امریکی ریاست ہوائی میں وفاقی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لگائی جانے والی نئی سفری پابندی کو شروع ہونے سے ایک گھنٹہ قبل معطل کر دیا ہے۔
امریکی ڈسٹرکٹ جج ڈیریک واٹسن کی جانب سے جاری ہونے والے حکم نامے نے ایگزیکیٹو آرڈر کو نافذالعمل ہونے سے روک دیا ہے۔
خیال رہے کہ ہوائی ان کئی امریکی ریاستوں میں سے ایک ہے جو اس پابندی کو روکنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس پابندی کے ذریعے دہشت گردوں کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکا جا سکے گا جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے تفریق پیدا ہوتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ماہ کے آغاز پر اس نئے صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے تھے جس کے مطابق چھ مسلم ممالک کے شہریوں پر 90 دن کے لیے امریکہ کے نئے ویزے کے حصول پر پابندی لگا دی گئی تھی۔
اس حکم نامے کے مطابق وہ افراد جن کے پاس پہلے سے ویزا موجود ہے، وہ امریکہ جا سکتے ہیں۔
نئے حکم نامے کے مطابق ایران، لیبیا، شام، صومالیہ، سوڈان اور یمن کے شہریوں کی امریکہ داخلے پر 90 روز کے لیے پابندی عائد کی گئی ہے۔ پہلے حکم نامے میں عراق کا بھی نام پابندی لگائے گئے ملکوں کی فہرست میں شامل تھا لیکن نئے حکم نامے میں اس کا نام خارج کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ جنوری میں بھی سفری پابندیوں سے متعلق جاری کیے گئے ایک حکم نامے کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے اور امریکہ کے ہوائی اڈوں پر شدید افرا تفری کا عالم تھا تاہم اس حکم نامے کو فیڈرل کورٹ نے فروری میں معطل قرار دے دیا تھا۔
اس تازہ عدالتی فیصلے پر تاحال وہائٹ ہاؤس کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
ریاست ہوائی کے بعد مزید تین ریاستوں نے بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سفری پابندی سے متعلق نئے صدارتی حکم نامے کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔
ریاست نیویارک کا مقدمے میں کہنا ہے کہ صدارتی حکمنامہ مسلمانوں پر پابندی ہے جبکہ واشنگٹن کے مطابق یہ حکمنامہ ریاست کے لیے نقصان دے ہے۔