بریگزٹ: ملکۂ برطانیہ آج آرٹیکل 50 پر دستخط کریں گی

ملکۂ برطانیہ آج قانون کے آرٹیکل 50 پر دستخط کریں گی جس کے بعد وزیرِ اعظم ٹریسا مے باقاعدہ طور پر یورپی یونین چھوڑنے کے لیے بات چیت کا آغاز کریں گی۔

یورپی یونین سے انخلا کا بل پیر کو برطانوی ایوان بالا سے منظور کر لیا گیا تھا جسے آج شاہی توثیق حاصل ہو جائے گی۔

اس کے بعد برطانوی وزیرِ اعظم برسلز کو اطلاع کر دیں گی کہ برطانیہ ان کے مقرر کردہ وقت پر یورپی یونین سے نکل جائے گا۔

انھوں نے کہا تھا کہ ایسا اس ماہ کے آخر میں ہوگا۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے وعدہ کیا ہے کہ وہ آرٹیکل 50 کے تحت یورپی یونین سے بریگزٹ سے متعلق دو سال مذاکرات کا آغاز کریں گی جن میں یوپی یونین کے ساتھ نئے تعلقات کے حوالے سے بھی بات ہو گی۔

اس پر عمل در آمد آئندہ ہفتے کیا جائے گا تاکہ یورپی یونین کے رکن ممالک کے ’ٹریٹیز آف روم‘ کی 60 ویں سالگرہ کے موقعے پر ہونے والے اجلاس سے تصادم کو بچا جائے۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے کرسمس سے پہلے کہا تھا کہ وہ بریگزٹ کا عمل مارچ کے اختتام تک شروع کرنا چاہتی ہیں لہٰذا وہ 25 مارچ کو ہونے والی اس تقریب میں شرکت نہیں کریں گی۔

برطانوی ایوان بالا میں 118 ووٹوں کے مقابلے میں 274 ووٹوں سے یورپی یونین چھورنے کے لیے بل کو بنا ترمیم کے منظور کیا گیا۔ جبکہ اس سے پہلے ایوان زیریں میں 122 کے مقابلے 494 ارکان پارلیمان نے وزیراعظم ٹریزا مے کو بریگزٹ مذاکرات شروع کرنے کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔

خیال رہے کہ گذشتہ سال جون میں برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا نکل جانے کے سوال پر ہونے والے تاریخی ریفرنڈم کے نتائج کے مطابق 52 فیصد عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی ہونے کے حق میں جبکہ 48 فیصد نے یونین کا حصہ رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔