آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فلسطینی ریاست کا قیام: ’ضروری نہیں کہ دو ریاستی حل ہی واحد حل ہو‘
وائٹ ہاؤس کے ایک افسر کے مطابق ضروری نہیں کہ اسرائیل اور فلسطین کے تنازعے کا واحد دو ریاستوں کا قیام ہی ہو۔
مذکورہ افسر کے اس بیان کو امریکہ کی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
گذشتہ کئی دہائیوں سے ہر امریکی حکومت اس تنازعے کے ’دو ریاستی حل‘ کی حمایت کرتی رہی ہے جس کے تحت ایک الگ فلسطینی ریاست کے قیام کا تصور دیا جاتا ہے۔ لیکن منگل کو وائٹ ہاؤس کے ایک سینیئر افسر نے تجویز دی کہ امریکہ دو ریاستی حل کے علاوہ بھی اس قسم کے کسی حل کی حمایت کرے گا جو جس پر فلسطینی اور اسرائیل دونوں متفق ہو جائیں۔ اس تجویز کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اس تنازعے کے حل کے حوالے سے اپنے دیرنہ مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار ہو سکتا ہے۔
امریکی پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کا عندیہ دینے والے وائٹ ہاؤس کے افسر کا نام مظر عام پر نہیں آیا ہے۔
نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر مذکورہ افسر نے بتایا کہ:’(ہمارا) مقصد امن کا قیام ہے، چاہے وہ دو ریاستی حل کی شکل میں ہو یا کوئی ایسا دوسرا حل جو دونوں فریقوں کو منظور ہو۔‘
وائٹ ہاؤس کے افسر کا مذکورہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد اسرائیلی اور امریکی قیادت کے درمیان پہلی ملاقات ہونے جا رہی ہے، جس کے لیے اسرائیلی وزیراعظم امریکہ میں موجود ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ وہ امن ممکن ہے جس کی بات ایک عرصے سے ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کی مکمل حمایت کریں گے اور ان تعلقات کو بہتر بنانے کی پوری کوشش کریں گے جو صدر اوباما کے دور میں خراب ہو گئے تھے۔
یاد رہے کہ سابق صدر اوباما مقبوضہ غرب اردن اور مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کے قیام کے شدید ناقد تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خبر رساں ادارے اسیوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ جب امریکی دفتر خارجہ کے افسران سے امریکی پالیسی میں تبدیلی کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس سلسلے میں بے خبر ہیں۔
ادھر فلسطینی حکام نے بھی وائٹ ہاؤس کے افسر کے مذکورہ بیان پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔ تتظیمِ آزادۂ فسطین ( پی ایل او) کی مجلس عاملہ کی رکن حنان اشروی نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ پالیسی کوئی ذمہ دارانہ حمکت عملی نہیں ہے اور اس سے امن کا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’دو ریاستی حل کوئی ایسا حل نہیں جو ہم نے سوچے سمجھے بغیر ہی تجویز کر دیا تھا۔‘