شمالی کوریا کی میزائل کے کامیاب تجربے کی تصدیق

شمالی کوریا نے تصدیق کی ہے کہ اس نے اپنے رہنما کم جونگ ان کی نگرانی میں اتوار کو بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی کےسی این اے نے بتایا کہ یہ بیلسٹک میزائل زمین سے زمین پر درمیانے اور طویل دوری پر مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے اسے اشتعال انگیزی قرار دیا ہے تاکہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اس پر ردعمل جانچ سکیں۔

چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے اس تجربے پر سرکاری ردِعمل میں کہا ہے کہ چین اس تجربے کا مخالف ہے اور وہ تمام جانبین پر زور دیتا ہے کہ وہ اشتعال انگیزی سے باز رہیں۔

تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ شمالی کوریا امریکہ اور جنوبی کوریا کے ساتھ کشیدگی کی وجہ سے میزائل تیار کر رہا ہے۔

اس سے قبل مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ چین شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کو روکنے کیے کافی اقدامات نہیں کر رہا۔

شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل کے اس تازہ تجربےکو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گيا ہے۔

امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا نے اس واقعے پر بات چیت کے لیے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے فوری اجلاس کی درخواست کی ہے۔

کے سی این اے نے بتایا ہے کہ پکگکسونگ 2 نامی میزائل نئے قسم کا ہتھیار ہے جس میں جوہری اسلحے لے جانے کی بھی صلاحیت ہے اور اس کی نگرانی خود کم جونگ ان نے کی ہے۔

سرکاری ایجنسی نے بتایا کہ پڑوسی ممالک کے پیش نظر میزائل کو اونچے زاویے پر لانچ کیا گيا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس میں ٹھوس ایندھن والے انجن کا استعمال ہوا ہے جو کہ بیلسٹک راکٹ کو زیادہ قوت اور وسعت بخشتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کم جونگ ان نے تجربے کی کامیابی پر 'بہت اطمینان' ظاہر کیا اور کہا کہ اس سے 'ملک کی قوت میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔'

جنوبی کوریا اور جاپان نے کہا کہ میزائل نے جاپان کے سمندر کی جانب مشرق میں 500 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا جبکہ اس نے 550 کلومیٹر کی بلندی حاصل کی تھی۔