یونان کا ترک فوجیوں کو ترکی واپس بھیجنے کے خلاف فیصلہ

یونان کی سپریم کورٹ نے ترکی کے ان آٹھ فوجیوں کو ترکی کے حوالے کرنے کے خلاف فیصلہ دیا ہے جن کے بارے میں ترکی کا کہنا ہے کہ وہ گذشتہ سال ہونے والی فوجی بغاوت میں ملوث تھے۔

یہ آٹھ فوجی ترکی میں ہونے والی ناکام بغاوت کے بعد ایک ہیلی کاپٹر کی مدد سے یونان چلے گئے تھے اور ان کا موقف تھا کہ وہ بغاوت میں ملوث نہیں تھے۔

ترکی نے یونان سے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا۔ ترک سپاہیوں کا کہنا ہے کہ ترکی میں ان کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔

یہ مقدمے سفارتی طور یونان کے لیے ایک مشکل صورت حال بن کر اُبھرا ہے۔

سینئیر پراسیکوٹرز نے ترکی کے آٹھ فوجیوں کی واپسی کے خلاف دلائل دیے تھے۔ یونان کی سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہے اور اس کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی ہے۔

ترک حکومت نے ان آٹھ فوجیوں کو غدار قرار دیا ہے جن میں تین میجر، تین کیپٹن اور دو سارجنٹ میجر شامل ہیں۔

اس معاملے کی وجہ سے نیٹو کے اتحادیوں میں تناؤ پیدا ہوا ہے جو آج کل منقسم قبرص کے درمیان امن معاہدہ کروانے کی کوششوں میں ہیں۔

فوجی بغاوت کے بعد ترکی میں مختلف شعبوں سے منسلک دسیوں ہزار افراد کو اپنی نوکریوں سے نکال دیا گیا جس میں فوجی افسران حکومتی اہلکار اور سکول ٹیچر شامل ہیں۔

صدر رجب طیب اردوغان کے ناقدین کہتے ہیں کہ اُنہوں نے ناکام بغاوت کی آڑ لیتے ہوئے اپنے حریفوں کو راستے سے ہٹایا ہے اور اقتدار پر اپنا ہاتھ مضبوط کیا ہے۔