آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹرمپ اور انڈیا: تھوڑی خوشی، تھوڑا غم
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی
ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت سے انڈیا اور امریکہ کے تعلقات پر کیا اثر پڑے گا؟
فی الحال سوال زیادہ ہیں اور جواب کم کیونکہ ابھی کسی کو یہ نہیں معلوم کہ وائٹ ہاؤس میں سکونت اختیار کرنے والے صدر وہی ٹرمپ ہوں گے جو انتخابی مہم میں نظر آئے تھے یا نئے عہدے کی بے پناہ ذمہ داریاں اور نئے سیاسی اور سفارتی تقاضے انھیں کچھ بدل دیں گے۔
روایتاً رپبلکن پارٹی کے دور اقتدار میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں زیادہ گرمجوشی نظر آتی ہے لیکن صدر اوباما اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان بھی کافی قربت تھی۔ نریندر مودی اس بے تکلفی کا اظہار کرنے کے لیے پریس کانفرنس میں بھی صدر اوباما کو ’براک‘ کہہ کر پکارتے تھے اور گذشتہ برس امریکہ نے انڈیا کو ’اہم دفاعی پارٹنر‘ کا درجہ بھی دیا تھا۔
امریکہ ہندوستان کو اپنا فطری حلیف سمجھتا ہے اور عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ حکومتوں کے بدلنے سے ملکوں کی خارجہ پالیسیوں میں کوئی انقلابی تبیدلیاں نہیں آتیں، یہ ضرور ہے کہ نئی حکومتوں کی ترجیحات مختلف ہو سکتی ہیں۔
تو ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے سے انڈیا کو خوش ہونا چاہیے یا پریشان؟
جواب شاید یہ ہے کہ فی الحال تھوڑی خوشی تھوڑا غم ہی بہتر رہے گا، کیونکہ انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے تین چار ایسی باتیں کہیں جو براہ راست ہندوستان پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
صدر ٹرمپ اگر حسب وعدہ امیگریشن پر سخت حکمت عملی اختیار کرتے ہیں تو انڈیا سےسافٹ ویئر انجینیئروں اور دوسرے پروفیشنلز کے امریکہ جا کر کام کرنے یا وہاں پڑھنے جانے والے طلبہ کے لیے یہ بری خبر ہو گی۔ اگر وہ نوکریاں امریکہ واپس لانے کے لیے امریکی کمپنیوں کو ’آف شورنگ‘ ختم کرنے پر مجبور کرتے ہیں تو انڈیا میں کال سینٹر بزنس پر اثر پڑے گا اور یہاں سرمایہ کاری متاثر ہو گی۔
صدر ٹرمپ امریکی صنعت کو فروغ دینا چاہتے ہیں اور وزیر اعظم مودی کا پسندیدہ پروگرام ہے ’میک ان انڈیا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
صدر ٹرمپ اگر چین کے ساتھ تجارتی جنگ شروع کرتے ہیں تو یہ صرف انڈیا کے لیے نہیں دوسری ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے بھی بری خبر ہو گی۔
اگر وہ مسئلہ کشمیر میں مصالحت کی کوشش کرتے ہیں، جیسا کہ انھوں نے انتخابی مہم کے دوران عندیہ دیا تھا، تو یہ انڈیا کو منظور نہیں ہو گا۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران پاکستان میں شدت پسندی کے بارے میں بھی سخت زبان استمعال کی تھی اور انڈیا کو امید ہو گی کہ وہ پاکستان کے ساتھ زیادہ سخت موقف اختیار کریں گے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سوال پر دونوں ملکوں کے درمیان نظریاتی ممثالت ہو سکتی ہے۔
لیکن فی الحال ان سوالوں کا کوئی واضح جواب نہیں ہے۔ جیسا صدر براک اوباما نے چند روز پہلے کہا کہ امریکہ کے صدر کی ذمہ داریاں اتنی وسیع ہیں کہ کوئی بھی انسان انہیں اکیلے نہیں سنبھال سکتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹیم میں کئی ایسے لوگ شامل کیے ہیں جو ان کے نظریات سے اتفاق نہیں کرتے۔ اور تجزیہ نگاروں کے مطابق نئی پالیسیاں صرف ڈونلڈ ٹرمپ کی نہیں نئی حکومت کی پالیسیاں ہوں گی۔
انڈیا میں ایک تاثر یہ بھی ہے کہ نریندر مودی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے تعلقات اوباما اور مودی کی ’دوستی‘ سے بھی آگے بڑھ سکتے ہیں کیونکہ دونوں کے نظریات میں بھی کافی یکسانیت ہے اور شاید کام کرنے کے طریقے میں بھی۔
دونوں بزنس کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور کاروبار کو فروغ دینا چاہتے ہیں، اور دونوں ہی اس وعدے کے ساتھ اقتدار میں آئے ہیں کہ تیز رفتار ترقی کے لیے وہ بدعنوان حکومتی نظام کو صاف شفاف بنائیں گے اور لال فیتہ شاہی کو برداشت نہیں کریں گے۔