آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افریقہ میں ہیرے کے کان کنوں کی کٹھن زندگی
11 سال پر محیط خانہ جنگی کے دوران افریقی ملک سیرالیون اپنے ’خونی ہیروں‘ کے لیے خاصا بدنام ہو گیا تھا۔
ملک کے شمال میں واقع ہیروں کی کانوں پر قبضے کے لیے باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان خونریز جنگ ہوئی۔ بہت سے باغیوں کو ہیروں کے بین الاقوامی خریداروں کی پشت پناہی حاصل تھی۔
اس جنگ کے خاتمے کے 14 سال بعد کونو ضلعے میں ہیروں کی کان کنی اب بھی جاری ہے۔
ایک جنوبی افریقی کمپنی کوئدو ہولڈنگز جدید ترین مشینری کی مدد سے زمین کی گہرائیوں میں جا کر ہیرے نکالتی ہے۔
اس کے قریب ہی چند دیہاتی دریا کے کنارے چھاننی، بالٹی اور بیلچے جیسی قدیم ٹیکنالوجی کی مدد سے ہیرے ڈھونڈے رہے ہیں۔
ان میں سے ایک فیلو ہیں جو 23 برس کونو میں کام کرتے رہے لیکن انھیں جنگ کی وجہ سے وہاں سے نکلنا پڑا۔
دیسی طریقوں سے ہیرے ڈھونڈے والے بہت سے لوگ بےحد غریب ہیں اور ان میں سے بہت سوں کا کہنا ہے کہ انھیں کئی مہینوں سے کوئی ہیرا نہیں ملا۔
پھر بھی ایک ایسے ملک میں جہاں 70 فیصد نوجوان بےروزگار ہیں، کان کنی سے بہت سے لوگوں کو روزگار مل جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بہت سے کان کن تین لوگوں کے گروہ کی شکل میں کام کرتے ہیں۔ فیلو دو دوستوں کے ساتھ مل کر ہیرے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان میں سے ایک بالٹی لے کر غوطہ لگاتا ہے اور دریا کی تہہ سے کیچڑ اور گارا نکال لاتا ہے، جب کہ ایک اور شخص اسے پکڑے رکھتا ہے۔
تیسرا شخص بالٹی لے کر اسے دریا کے کنارے انڈیل دیتا ہے۔
اس کے بعد اس کیچڑ میں سے ہیروں کی تلاش شروع ہو جاتی ہے۔
یہ تینوں مرد اپنے اپنے کردار بدلتے رہتے ہیں کیوں کہ پانی بہت ٹھنڈا ہے۔
فیلو سردی کی شکایت کرتے ہیں۔ وہ پانی سے باہر آتے ہی خود کو گرم رکھنے کے لیے سستی رم شراب کی چسکی لگاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’یہ کام مشکل اور تھکا دینے والا ہے۔ اگر میرے پاس تعلیم ہوتی تو میں فوراً کوئی اور کام شروع کر دیتا۔‘
دریا کے کنارے دلدلی علاقہ ان دیسی کان کنوں نے کھود ڈالا ہے، اور وہ جگہ جگہ کام کرتے دیکھے جا سکتے ہیں۔
آخر کار فیلو کی ٹیم کو ایک ننھا سا ہیرا مل ہی گیا۔
بعض اوقات کان کن پیسے جمع کر کے ’راکر‘ نامی ایک مشین خرید لیتے ہیں، جس کی مدد سے کیچڑ میں سے ہیرے ڈھونڈنے میں آسانی ہوتی ہے۔
تاہم فیلو کے پاس ایسی کوئی مشین نہیں ہے۔ ’ہم کسی قسم کی مشین نہیں خرید سکتے اور ہمیں صرف بالٹی، بیلچے اور چھاننی سے کام لینا پڑتا ہے۔‘
ہیرا ملنے کے بعد فیلو کام بند کر اپنے ساتھیوں سمیت قریبی قصبے کا رخ کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہ بہت اچھا دن ہے۔ ہم نے ایک مہینے سے ہیرے کی شکل تک نہیں دیکھی تھی۔‘
گھر جاتے ہوئے ان کی ملاقات اپنے بڑے بھائی سے ہو گئی۔
اپنے گھر پہنچ کر فیلو اپنے چچا کے ساتھ گپ شپ لگاتے ہیں۔
جنگ کی دوران اسی کمرے کے باہر فیلو کی ماں کو باغیوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔
اس دوران ان کا تمام گھر جل کر راکھ ہو گیا تھا۔
اگلے دن فیلو کوئدو قصبے میں جا کر اپنا ہیرا فروخت کرتے ہیں۔
ایک قیراط کے 40 فیصد خالص ہیرے کی قیمت 3200 ڈالر ہے۔ تاہم فیلو کا ہیرا بہت کم معیار کا اور چھوٹا ہے۔ انھیں صرف 35 ڈالر ملیں گے۔ تاہم وہ اس پر بھی خوش ہیں۔
تصاویر بشکریہ اولیویا ایکلینڈ