’چائے پیش نہ کروں‘: کیفے مالک گرفتار

ترکی میں اپوزیشن جماعت کے حامی اخبار کے کیفے ٹیریا کے مالک کو گرفتار کیا گیا جس کی وجہ یہ سامنے آئی ہے کہ انھوں نے یہ کہا تھا کہ وہ ملک کے صدر رجب طیب اردوغان کو چائے پیش نہیں کریں گے۔

جمہوریت نامی اخبار میں چائے خانے کے مالک سینول بورن کو صدر کی بے عزتی کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔

ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ مسٹر بورن ان الزامات سے انکاری ہیں۔

یاد رہے کہ ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کی کوشش کے بعد سے کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری ہے۔

اخبار حریت کا سٹاف ان ہزاروں افراد میں شامل ہے جنھیں یا تو گرفتار کیا گیا یا انھیں اپنے عہدوں سے معطل ہونا پڑا یا اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔

یہ ملک کے ان چند اخبارات میں شامل ہے جنھوں نے اردوغان مخالف پالیسی اپنائی ہے۔

اطلاعات کے مطابق 24 دسمبر کو جب مسٹر بورن اپنے کام پر جا رہے تھے تو اس دوران صدر کی تقریر کے باعث سکیورٹی کے اقدامات کے لیے شاہرائیں بند تھیں۔

ایسے میں مسٹر بورن نے ایک پولیس افسر سے کہا کہ 'میں اس شخص کو چائے کا ایک کپ پیش نہیں کروں ۔'

استنبول میں جرائم سے متعلق عدالت کے جج نے مسٹر بورن کو زیرِ حراست رکھنے کا حکم دیا۔

یاد رہے کہ ترکی میں صدر کی تضحیک کرنے کے الزام میں چار سال کی قید ہو سکتی ہے۔

گذشتہ ماہ جمہوریت نامی اخبار کے 10ممبران کو جیل میں ڈالا گیا جو مقدمات کے شروع ہونے کے منتظر ہیں۔

ان پر الزام تھا کہ وہ کرد باغیوں جو کہ امریکہ میں موجود رہنما فتح اللہ گولن کے حامی ہیں۔

یاد رہے کہ مسٹر گولن پر ترک حکومت الزام عائد کرتی ہے کہ انھوں نے ترکی میں بغاوت کروانے کی کوشش کی تھی۔

اسی اخبار کے سابق مدیرِ اعلیٰ کان دندار جرمنی چلے گئے ہیں۔

مسٹر اردوغان پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ بغاوت کی کوشش کے بعد سے اظہارِ رائے کی آزادی کی راہ میں حائل ہو رہے ہیں اور انھوں نے ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کو نوکریوں سے فارغ یا معطل کیا ہے۔

لیکن دوسرے جانب صدر کے حامی کہتے ہیں کہ وہ ایک مضبوط لیڈر ہیں اور ملک میں معاشی خوشحالی کے پیچھے موجود تحریکی قوت انھیں کی ذات ہے۔