پاناما لیکس کے بعد کیا ہوا؟

پاناما

پاناما پیپرز لیکس کو افشا شدہ دستاویزات کی تاریخ میں سنگِ میل قرار دیا جا سکتا ہے، جس کی وجہ سے دنیا کے کئی حصوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔

دنیا کی سب سے زیادہ خفیہ کمپینیوں میں شمار کی جانے والی پاناما کی کمپینی موسیک فونسیکا کی ایک کروڑ سے زائد دستاویزات کو افشا کر دیا گیا تھا۔ اس تفصیلات سے ظاہر ہوا کہ آف شور کمپنیوں کا کاروبار کس طرح چلتا ہے۔

اب تک پاناما پیپیرز کا کیا نتیجہ سامنے آیا ہے؟ ہم نے ان صحافیوں سے بات کی جنھوں نے پاناما پیپرز کی خبر دنیا کے سامنے پیش کی تھی۔

فوری نتیجہ کیا تھا؟

اس کا پہلا شکار آئس لینڈ‌ کے وزیراعظم سگمندر گنلوگسن بنے جنھوں نے پاناما لیکس کے کچھ ہی دن بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔ پاناما لیکس سے معلوم ہوا کہ سگمندر گنلوگسن اور ان کی اہلیہ ایک آف شور کمپنی کے مالک ہیں جن کے بارے میں انھوں نے پارلیمان میں داخل ہونے سے قبل نہیں بتایا تھا۔

دیگر عالمی رہنماؤں میں روسی صدر ولادی میر پوتن اور پاکستانی وزیراعظم نواز شریف شامل ہیں جنھوں نے لیکس اور منی لانڈرنگ سے متعلق الزامات کو رد کیا ہے۔

برطانیہ میں اس وقت کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو سیاسی خفت کا سامنا کرنا پڑا جنھوں نے تسلیم کیا کہ ان کے والد ایئن کی جانب سے قائم ایک قانونی آف شور کمپنی سے ان کا خاندان مستفید ہوا تھا۔

امریکہ سمیت متعدد یورپی اور ایشیائی ممالک نے لیک میں شامل اپنے شہریوں کے بارے میں تحقیقات کا آغاز کیا کہ آیا وہ قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب تو نہیں ہوئے۔

اس سب کے باوجود موسیک فونسیکا پر کسی غیرقانونی کام میں ملوث ہونے کا مقدمہ درج نہیں ہوا۔

بیسٹین اوبرمیئر اور فریڈرک اوبرمائر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبیسٹین اوبرمیئر اور فریڈرک اوبرمائر

پاناما پیپر کیسے افشا ہوئے؟

بیسٹین اوبرمیئر اور فریڈرک اوبرمائر وہ دو صحافی تھے جو ان لیکس کے ذمہ دار تھے۔

سنہ 2014 کی ایک شب اوبرمیئر اپنے بیمار بچوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے جب انھیں ایک پیغام موصول ہوا۔

اس میں پوچھا گیا تھا: 'ڈیٹا میں دلچسپی ہے؟'

بعد میں پتہ چلا کہ یہ ڈیٹا دراصل جنوبی امریکی ملک پاناما کی لا فرم موسیک فونسیکا اور شیل کمپینیوں کا ہے جو امیر لوگوں کے لیے بنائی گئی تھیں۔ وسل بلوئرز یا خفیہ اطلاع دینے والوں نے اپنی شناخت جان ڈو کے نام سے کروائی اور ان کی اصل شناخت تاحال راز ہے۔

ان صحافیوں کو روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں فائلیں ملنا شروع ہوئیں اور جلد ہی ان کے پاس آف شور کمپنیوں کے بارے میں لاکھوں فائلیں جمع ہو گئیں۔ اس میں انھوں نے صحافیوں کے بین الاقوامی نیٹ ورک اور بی بی سی سمیت دنیا بھر سے رپورٹروں کی ٹیم کو شامل کیا۔

وہ کیا سوچتے ہیں؟

پاناما پیپرز کی نشر و اشاعت کے آٹھ ماہ بعد وہ کیا سوچتے ہیں کہ انھوں نے کیا حاصل کیا؟

اوبرمائر نے بی بی سی کو بتایا: 'ہم نے انٹرنیشنل کنسورشیم فار انویسٹیگیٹیو جرنلسٹس کے ساتھ اس کا فالو اپ کیا ہے۔'

انھوں نے بتایا: 'ہمیں معلوم ہوا کہ دنیا بھر میں 79 ممالک میں تحقیقات کی جارہی ہیں، 6500 ٹیکس دہندگان اور کمپنیوں کی عالمی سطح پر تفتیش کی جارہی ہے اور موسیک فونسیکا نے اپنے نو دفاتر بند کر دیے ہیں۔ انھوں نے پاناما میں اپنے مرکزی دفتر کے باہر سے سائن بورڈز بھی ہٹا دیے ہیں۔'

پاناما

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اوبرمائیر کا کہنا تھا کہ پاناما پیپرز سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیسے آف شور کمپنیاں دہشت گردی کی مالی امداد کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔

وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس لیک سے ظاہر ہوتا ہے کہ آف شور کمپنیاں صرف امیر لوگوں کے لیے ٹیکس بچانے کا ذریعہ ہی نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں پاناما پیپرز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کمپنیوں کے ذریعے مجرمانہ سرگرمیوں کو چھپانے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں: میں اس بات پر حیران نہیں تھا کہ امیر لوگ ٹیکسوں سے بچنے کے لیے آف شور کا استعمال کرتے ہیں۔ میں اس بات پر حیران تھا کہ اس میں بہت زیادہ جرائم پیشہ لوگ شامل ہیں۔ میرے خیال میں آف شور کمپنیوں کی بڑی تعداد اس لیے استعمال کی گئی ہے کہ وہ لوگ کچھ چھپانا چاہتے تھے۔'

اوبرمائر کہتے ہیں کہ ان لیکس کے اشاعت سے کچھ بنیادی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔

'بہت کچھ تبدیل ہوا، جرمنی میں ہمارے وزیر خزانہ نے ایک نیا 'پاناما قانون' متعارف کروایا (جس میں شہریوں کے لیے شیل کمپنیوں کے بارے میں بتانا لازمی قرار دیا گیا) اور پاناما خود بھی تبدیلی کی جانب بڑھ رہا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ 'کچھ ممالک نے مستفید ہونے والے مالکان کو رجسٹر کرنے کا اعلان کیا ہے اور دیگر ممالک میں بھی اس بارے میں پہلی بار بات ہورہی ہے۔'

ان کا کہنا ہے کہ 'لیکن اس کے باوجود، ٹیکس سے بچنے والوں کی مدد کرنے والا کاروبار ابھی بھی نہیں بدلا اور ایسے ہی چل رہا ہے، ان کا اثرو رسوخ ہے، طاقت ہے، لابی گروپس ہیں۔ ہم آف شور کا خاتمہ نہیں دیکھتے لیکن ان کو سکڑتا ہوا ضرور دیکھ رہے ہیں۔'

پاناما

،تصویر کا ذریعہReuters

اس مسئلے کا حل کیا ہے؟

دونوں صحافی ٹیکس سے بچاؤ کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر مستفید ہونے والے مالکان کو رجسٹر کرنے کے بارے میں بحث کرتے ہیں۔ مستفید ہونے والے مالک سے مراد ایک ایسا شخص ہے جو ایسی کسی کمپنی سے منافع حاصل کرتا ہے۔

کتاب ’دا گریٹ ٹیکس رابری‘ کے مصنف اور صحافی رچرڈ بروک ان دونوں صحافیوں کے مقابلے میں زیادہ مایوس کن صورتحال پیش کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں: 'جو کوئی بھی رجسٹر ہو گا، اس میں آپ کو پولیس کی ضرورت ہو گی۔ آپ کو قانون کے نفاذ کے لیے وسائل درکار ہوں گے جو تحقیقات کر سکیں۔ بڑے منی لانڈرر اور مجرم اس میں سے بھی کچھ نکال لیں گے۔'

دوسری جانب شفافیت کے قیام کی کوششیں پیچھے دھکیل دی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر یورپی یونین کو پبلک رجسٹر کے منصوبے پر سمجھوتہ کرنا پڑا کیونکہ کچھ رکن ممالک نے اس کی مخالفت کی تھی۔

دنیا بھر میں پاناما پیپرز کے بعد کیے جانے والے اقدامات کس حد تک موثر ثابت ہوئے ہیں یہ تاحال ایک کھلا چیلنج ہے۔