آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دو سال میں دولت اسلامیہ کے ’50 ہزار جنگجو ہلاک‘ ہوئے
ایک امریکی فوجی اہلکار کا کہنا ہے عراق اور شام میں امریکی اتحاد کی جانب سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف شروع کی گئی جنگ میں کم از کم 50 ہزار شدت پسند ہلاک ہوچکے ہیں۔
سینیئر اہلکار کی جانب سے اس تعداد کو ایک 'محتاط اندازہ' قرار دیا ہے
سینیئر فوجی اہلکار کے مطابق یہ تعداد فضائی طاقت اور محدود تعداد میں امریکیوں کی مقامی فوجوں کی مدد کے اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔
تاہم دوسری جانب امریکہ کی جانب سے مسلسل یہ خبردار کیا گیا ہے کہ دولت اسلامیہ تیزی سے متبادل جنگجو حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
جمعرات کو اہلکار کا کہنا تھا کہ امریکہ کی سربراہی میں قائم اتحاد کی جانب سے موصل جیسی جگہوں پر فضائی حملوں میں شدت لائی گئی تھی جہاں عراقی افواج شہر پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کے لیے لڑ رہی ہیں تاہم انھیں شہریوں کی ہلاکتوں کے خطرے کے پیش نظر اسے روکنا پڑا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فوجی اہلکار کے مطابق 'اس کارروائی سے دولت اسلامیہ کو نقصان پہنچنا شروع ہو گیا تھا۔'
خیال رہے کہ امریکہ کی جانب سے مخالفین کی ہلاکتوں کی تعداد بتانے کے حوالے سے اکثر بد دلی کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
اگست میں خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے لیفٹیننٹ جنرل شان میک فارلینڈ کے حوالے سے بتایا کہ تھا کہ اب تک 45000 مخال جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔
واضح رہے کہ دولت اسلامیہ کو سنہ 2014 کے بعد سے کئی محاذوں پر شکست کا سامنا ہوا ہے اور اب اس کے خلاف روسی، ترک، عراقی، شامی اور کرد فوجوں کے علاوہ امریکی اور برطانوی فضائیہ بھی کارروائیوں میں شامل ہے۔
اب یہ موصل، رقہ اور سنی عرب قبائلیوں کے مرکز دریائے فرات کی وادی تک محدود ہوگئی ہے جو مشرق میں شام سے مغربی عراق تک پھیلی ہوئی ہے۔