آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
برطانیہ کو دہشت گردی کے شدید خطرے کا سامنا ہے: سربراہ ایم آئی 6
برطانیہ کی حساس ادارے ایم آئی 6 کے نئے سربراہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو جس سطح کے دہشت گردی کے خطرے کا اس وقت ہے 'ایسا اس سے پہلے کبھی نہیں تھا۔'
ایم آئی 6 کے سربراہ ایلکس ینگر کا کہنا تھا کہ برطانوی انٹیلی جنس اور سکیورٹی اداروں نے جون 2013 سے دہشت گردی کے 12 منصوبوں کا ناکام بنایا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بیشتر خطرات مشرق وسطیٰ کے غیر حکومتی علاقوں سے ہیں جیسا کہ شام اور عراق۔
ایلکس ینگر نے 'مخلوط جنگ' کے بارے میں بھی خبردار کیا جن میں سائبر حملے اور 'جمہوریت کو الٹنا' شامل ہیں، جو ان کے خیال میں ' تیزی سے خطرناک صورتحال اختیار کر رہا ہے۔'
ایم آئی 6 کے سربراہ کے طور پر اپنے پہلے خطاب میں انھوں نے روس کے شام میں صدر بشار الاسد کے ساتھ اتحاد کے بارے انھوں نے صدر بشار الاسد کے مخالفین کو دہشت گرد سمجھنے کے اثرات کے بارے میں خبردار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ 'مجھے یقین ہے کہ روس کی شام میں کارروائی، جو اسد کی حکومت کا اتحادی ہے، اگر انھوں نے اپنا راستہ تبدیل نہ کیا تو وہ قانونی حیثیت کھو دینے کے خطرے سے دوچار ہونے کی ایک افسوس ناک مثال بن سکتے ہیں۔'
ایلکس ینگر کا کہنا تھا کہ 'ہم اس جگہ سے ابھرنے والے خطرات سے محفوظ نہیں رہ سکتے جب تک خانہ جنگی کا اختتام نہیں ہو جاتا۔'
لندن میں ایم آئی 6 کے ہیڈکوارٹرز میں ایلکس ینگر نے صحافیوں کا بتایا کہ 'دولت اسلامیہ نے شام کی صورتحال کو خطے میں اپنا مضبوط گڑھ بنانے کے لیے استعمال کیا ہوا ہے اور مغرب کے خلاف جنگ چھیڑی ہوئی ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ دولت اسلامیہ کے پاس انتہائی منظم انداز میں حملے کرنے کا نظام تھا جس کے ذریعے وہ برطانیہ اور اس کے اتحادیوں پر 'شام کو چھوڑے بغیر ہی' حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔