عراق میں شیعہ زائرین پر حملہ، 77 افراد ہلاک

عراق میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایک ٹرک بم دھماکے میں 77 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن میں اکثریت ایران اور افغانستان سے آئے شیعہ زائرین کی ہے۔

اس حملے میں تقریباً 40 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یہ حملہ بغداد سے 100 کلومیٹر جنوب میں حلہ قصبے کے قریب ایک پیٹرول سٹیشن اور ریستوران پر کیا گیا۔

سڑک کنارے واقع یہ سٹاپ عراقی شہر کربلا میں اربعین کے بعد واپس آنے والے زائرین سے بھرا ہوا تھا۔

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول ہے۔

دولت اسلامیہ سے منسلک خبررساں ادارے عماق کی طرف سے جاری کردہ پیغام میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انھوں نے اس حملے میں 200 کے قریب افراد کو ہلاک اور زخمی کیا ہے۔

بظاہر اس حملے میں شومالی گاؤں کے قریب ایرانی شیعہ زائرین کی بسوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

صوبائی سکیورٹی چیف فلاح الرضی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس حملے میں 80 کے قریب ہلاک ہونے والوں میں ایرانی بھی شامل ہیں اور 20 سے زائد زخمی ہیں۔

صوبائی سکیورٹی چیف کے مطابق ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

خیال رہے کہ لاکھوں کی تعداد میں شیعہ زائرین نے اربعین کے لیے کربلا کا سفر کیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں نے کربلا میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی جب چھ خودکش بمبار مغربی قصبے عین تمر میں داخل ہوئے تھے۔ ان میں سے پانچ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا جبکہ چھٹے خودکش بمبار نے خود کو اڑا دیا تھا جس سے آٹھ شہری ہلاک ہوگئے تھے۔