آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ترکی میں حکومت نے احتجاج کے بعد ریپ سے متعلق متنازع بل واپس لے لیا
ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے اس متنازع بل کو واپس لے لیا ہے جس میں تجویز کیا گیا ہے کہ اگر کم سن لڑکی کا ریپ کرنے والا شخص اس لڑکی سے شادی کر لیتا ہے تو وہ سزا سے بچ جائے گا۔
اس مجوزہ قانون کے خلاف ترکی احتجاج مظاہرے شروع ہونے کے بعد اسے واپس لینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
منگل کو اس مجوزہ قانون کو منظوری کے لیے حکمراں جماعت کی اکثریتی پارلیمان میں پیش کیا جانا تھا۔
حکومت کا اصرار تھا کہ اس قانون سازی کا مقصد بچوں کی شادی سے متعلق جاری روایت سے نمٹنا ہے جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے بچوں کے ریپ کو قانونی حیثیت مل جائے گی۔
ترکی میں احتجاجی مظاہروں کے علاوہ اقوام متحدہ نے حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ اس بل کو منظور نہ کرے کیونکہ اس سے ملک کی کم عمری میں شادی اور جنسی ہراس کے واقعات کو روکنے کی کوششیں متاثر ہوں گی۔
وزیر اعظم بن علی یلدرم نے کہا کہ وسیع اتفاق رائے پیدا کرنے اور حزب مخالف کو اس پر اپنی تجاویز کے لیے مزید وقت دینے کے لیے اس بل کو پارلیمان سے واپس لیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ترکی کی عالمی شہرت یافتہ مصنفہ الیف شافاک نے اس بل کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہاس بل میں سب سے بڑی کمزوریت لفظ رضامندی ہے۔
’اس کا کیا مطلب ہوا؟ ہم یہاں بچوں کے بارے میں بات کر رہے ہیں تو اگر ریپ کرنے والا متاثرہ خاندان سے بات چیت کرتا ہے، اگر وہ خاندان کو رشوت یا اسے دھمکی دیتا ہے تو خاندان بڑی آسانی سے پیچھے ہٹ جائے گا، آپ جانتے ہیں کہ وہ اپنی شکایت پر کہیں گے کہ ٹھیک ہے اس میں رضامندی شامل تھی اور زبردستی کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔‘
خیال رہے کہ اس قانون کے تحت اس شخص کو رہا کر دیا جائے گا جو کسی کم سن لڑکی کو بنا کسی جبر، دھمکی کے ریپ کرتا ہے تاہم وہ بعد ازاں اس سے شادی کر لیتا ہے۔
اس بل کے خلاف اتوار کو ترکی کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے۔ استنبول میں ہونے والے مظاہرے میں بعض بینرز پر درج تھا 'ریپ کو قانونی شکل نہیں دی جا سکتی۔' اور یہ کہ 'اے کے پی میرے جسم سے ہاتھ ہٹاؤ'۔ اے کے پی صدر طیب اردوغان کی جماعت ہے جس نے یہ بل پیش کیا ہے۔
مظاہرے میں شامل ایک خاتون کا کہنا تھا کہ'میں ایک ماں ہوں ۔ مجھے اس پر کیسا ردِ عمل دینا چاہیے۔ مجھے یقین نہیں آتا، یہ سب صحیح نہیں ہے۔ یہ سمجھ سے باہر ہے۔'
'اگر یہ میرے بیٹی کے ساتھ ہوجائے تو؟اگر اس ملک کی مائیں ایسا ہونے دیتی ہیں تو مطلب مائیں ہی نہیں ہیں۔'
وزیرِ انصاف بیکر بوزداگ نے نیٹو کے اجلاس میں کہا تھا کہ اس بل کے تحت ریپ کرنے والوں کو رعایت نہیں دی جائے گی۔