بریکسٹ پر فیصلے کے بعد ٹریزا مے کا عدلیہ کی آزادی کا دفاع

برطانیہ کی وزیراعظم ٹریزامے نے بریکسٹ پر عدالتی فیصلے کے بعد ججز کی آزادی کی حمایت کی ہے۔

انڈیا کے دورے پر روانہ ہونے کے بعد اپنے بیان میں برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ وہ عدلیہ کی آزادی کی اہمیت پر یقین رکھتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پریس کی آزادی کو بھی اہم سمجھتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جمہوریت کے لیے عدلیہ اور پریس کی بہت اہمیت ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے برطانوی ہائی کورٹ نے حکم صادر کیا تھا کہ ملک کی پارلیمان یورپی یونین سے نکلنے کے عمل پر لازمی ووٹنگ کروائے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت ازخود لزبن معاہدے کی شق 50 کے تحت کارروائی شروع نہیں کر سکتی جس کے تحت یورپی یونین سے رسمی مذاکرات شروع کیے جا سکتے ہیں۔

برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے کہا تھا کہ ریفرینڈم کی رو سے ارکانِ پارلیمان کو رائے شماری کرنے کی ضرورت نہیں ہے، تاہم مبصرین نے اسے غیرآئینی قرار دیا ہے۔

حکومت ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کر رہی ہے اور اس معاملے کی سماعت سپریم کورٹ میں ہو گی جو اگلے ماہ کے اوائل میں متوقع ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ وہ شق 50 کا سہارا لیں گی جس کے تحت یورپی یونین کو باضابطہ طور پر برطانیہ کی علیحدگی کے فیصلے سے مطلع کیا جائے گا۔

اس سے قبل برطانیہ نے 48.1 فیصد کے مقابلے پر 51.9 فیصد کی اکثریت سے 'بریکسٹ' کہلانے والے ریفرینڈم کے ذریعے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

یورپی یونین کے دیگر 27 ارکان نے کہا ہے کہ برطانیہ کی علیحدگی کے مذاکرات اس وقت تک شروع نہیں کیے جا سکتے جب تک شق 50 کا سہارا نہ لیا جائے۔

وکیل جینا ملر نے ہائی کورٹ کے باہر کہا کہ حکومت کو 'اپیل نہ کرنے کا عقلمندانہ فیصلہ کرنا چاہیے۔'

انھوں نے کہا: 'آج کا نتیجہ ہم سب کے بارے میں ہے۔ یہ ہماری ٹیم کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ہمارے برطانیہ اور ہم سب کے مستقبل کے بارے میں ہے۔

تاہم ایک حکومتی ترجمان نے اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ انھوں نے کہا: 'ملک نے پارلیمان کے منظور کردہ ایکٹ کے ذریعے یورپی یونین چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اور حکومت ریفرینڈم کے نتائج کا احترام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ہم اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔'

اخبار دی ڈیلی میل نے ججز کو 'لوگوں کا دشمن' قرار دیا تھا جبکہ یوکے کی انڈیپینڈنٹ پارٹی کے نیگل فاریج نے خبردار کیا کہ اگر ریفرنڈم کے نتائج کو تسلیم نہ کیا گیا تو لوگ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں گے۔

حکومت عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کر رہی ہے اور وزیراعظم نے کہا ہے کہ اس موقع پر مضبوط دلائل دیے جائیں گے۔

حکومت کا موقف ہے کہ وزرا کے پاس کافی طاقت ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ عدالت کا فیصلہ بریکسٹ کے ٹائم ٹیبل پر اثر انداز نہیں ہوگا۔ لیکن بہت سے اخباروں میں یہ تنقید کی جارہی ہے کہ اس سے یہ سارا عمل تعطل کا شکار ہوگا۔

لیبر پارٹی کا کہنا ہے کہ اس میں تعطل نہیں چاہتی تاہم کنزترویٹو پارٹی کے سابق رکن کین کلاک اور لب ڈیم کے سابق رکن نک کلگ نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ وہ اس کے حلاف ووٹ دینے کے لیے تیار ہیں۔