آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جنگل کیمپ کی بندش سے پہلے پناہ گزینوں اور پولیس میں تصادم
فرانس میں کیلے کی بندرگاہ پر قائم پناہ گزین کیمپ جنگل میں فرانسیسی پولیس اور پناہ گزینوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔
فرانسیسی حکام نے اعلان کر رکھا ہے کہ یہ کیمپ پیر کو بند کر دیا جائے گا۔
کیمپ میں نظم قائم کرنے کے لیے پولیس نے دھوئیں کے گرنیڈ پھینکے۔
حکام نے کیمپ میں ہزاروں کی تعداد میں اعلانیہ پرچے تقسیم کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ کیمپ کو بلڈوز کیے جانے سے پہلے پہلے وہ سب یہاں سے چلے جائیں۔
اس اثنا میں لاوارث بچوں کا ایک گروہ برطانیہ پہنچا ہے اس سے پہلے گذشتہ پیر کو 39 بچے برطانیہ پہنچے تھے جن کے رشتے دار وہاں موجود ہیں۔
اس کیمپ میں قریبا دس ہزار افراد مقیم ہیں جنہیں پیر کے بعد فرانس کے مختلف علاقوں میں بھیجا جائے گا۔
سنیچر کو کم از کم 50 کے قریب افراد نے پولیس پر پتھراؤ کیا جواباً پولیس نے ان پر لاٹھیاں برسائی اور دھوئیں کے گرنیڈ پھینکے۔
امدادی اداروں کو خدشہ ہے کہ بعض پناہ گزین فرانس کے دیگر علاقوں میں جانے سے انکار کر دیں گے کیونکہ وہ کیلے میں برطانیہ کے زیادہ قریب ہیں کیونکہ وہ وہاں جانے کے خواہشمند بھی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیلے میں بی بی سی کے نامہ نگار سیمن جونس کا کہنا ہے کہ کئی پناہ گزینوں کو اس بات کا ادراک نہیں ہے کہ اس کیمپ میں ان کے دن اب ختم ہو چکے ہیں۔
اتوار کو قریبا دس ہزار پرچے تقسیم کیے جائیں گے جن میں لوگوں کو بتایا جائے گا کہ انہیں بسوں کے ذریعے فرانس کے کن کن علاقوں میں بھیجا جائے گا اور یہ کہ انہیں وہاں پناہ کی درخواست کے لیے موقع بھی دیا جائے گا۔
ایک اندازے کے مطابق دس ہزار میں سے تقریباً دو ہزار افراد جانے سے انکار کریں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ وہ طاقت کا استعمال نہیں کریں گے لیکن اگر کسی پناہ گزین نے جانے سے انکار کیا تو وہ مداخلت کریں گے۔