آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’یمن میں جنازہ گاہ پر حملہ غلط معلومات کی بنیاد پر کیا گیا‘
یمن میں سعودی قیادت میں حوثی باغیوں پر بمباری کرنے والے اتحادی افواج کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے دارالحکومت صنعا میں جنازہ گاہ پر حملہ ’غلط معلومات‘ کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ آٹھ اکتوبر کو ہونے والے اس حملے کے نتیجے میں کم از کم 140 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں زیادہ تعداد عام شہریوں کی تھی۔
اس حملے کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دو سال سے جاری تنازع کے دوران ہلاکتوں کی تعداد کے لحاظ سے یہ سب سے بدترین حملہ تھا۔
تحقیقات میں ’لڑآئی کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے‘ اور ’غلط معلومات فراہم کرنے‘ کا الزام لگایا گیا ہے۔
اس حملے پر بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید بھی کی گئی تھی۔
مشترکہ جائزہ ٹیم کی جانب سے کی گئی سعودی قیادت میں 14 ممالک کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اتحادی افواج کے طیاروں کو غلط معلومات فراہم کی گئی تھی کہ جنازہ گاہ اس وقت حوثی باغیوں کے رہنماؤں سے بھرا ہوا ہے۔
اس کا الزام ’جنرل چیف آف سٹاف کی یمنی صدر سے منسلک جماعت پر عائد کیا گیا ہے۔‘
تحقیقات میں اس حملے کا کچھ ذمہ دار یمن میں ائیر آپریشن سینٹر کو بھی ٹھہرایا گیا ہے کیونکہ تحقیقات کے مطابق انھوں نے اتحادی افواج کی کمانڈ سے اجازت لیے بغیر ہی طیاروں کی ہدف کی جانب رہنمائی کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حملے کے نتیجے میں ہلاک یا زخمی ہونے والے افراد کے خاندان والوں کو معاوضہ ادا کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔ خیال رہے کہ اس حملے میں چھ سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔