آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
شام: روس نے حلب پر پھر بمباری شروع کر دی
روسی طیاروں نے شامی شہر حلب میں باغیوں کے زیرِ اثر علاقوں میں ایک مرتبہ پھر بمباری شروع کر دی ہے جسے کئی روز کی شدید ترین بمباری قرار دیا جا رہا ہے۔
اس بمباری سے بچوں سمیت کم از کم 25 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
بمباری کی اس تازہ لہر کے دوران شامی حکومت کے کہنے پر ایک عارضی وقفہ دیا گیا ہے تاکہ عام شہری حلب سے نکل جائیں۔
گذشتہ ماہ روس اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا معاہدے ٹوٹ جانے کے بعد حلب پر متعدد بار فضائی حملے کیے جا چکے ہیں۔
یہ بمباری ایک ایسے وقت شروع کی گئی ہے جب روسی صدر ولادی میر پوتن نے حال ہی میں فرانس کا دورہ منسوخ کیا ہے۔
فرانس میں صدارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر فرانسوا اولاند اور ولادی میر پوتن کی سے اس ماہ کے آخر میں ملاقات طے تھی تاہم جب فرانس نے کہا کہ اس ملاقات میں صرف شام کے مسئلے پر بات ہو گی تو یہ ملاقات منسوخ کر دی گئی۔
پیر کے روز فرانسیسی صدر نے عندیہ دیا تھا کہ شام میں بمباری کی پاداش میں روسی حکام کو جنگی جرائم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ادھر منگل کو برطانوی وزیرِ خارجہ نے بھی کہا تھا کہ شام کی وجہ سے روس عالمی برادری میں تنہا ہو سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روس نے کئی بار عام شہریوں کی نشانہ بنانے کے الزام کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ شام میں صرف دہشت گردوں پر حملے کر رہا ہے۔
برطانیہ میں سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ منگل کے روز ہونے والی بمباری میں کم از کم 25 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
تنظیم کا مزید کہنا ہے کہ روسی فوج نے بنکر بسٹر بم یعنی حفاظتی مورچوں کو تباہ کرنے والے بم استعمال کیے ہیں۔
امدادی تنظیم ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ شہر میں اب صرف 11 کارآمد ایمبیولنسیں بچی ہیں کیونکہ پانچ حالیہ بمباری میں تباہ ہو گئیں جب کہ آٹھ کو ٹھیک کرنے کے لیے اہم پرزے دستیاب نہیں ہیں۔
دوسری جانب شامی حکومتی ذرائع ابلاغ نے باغیوں کی طرف سے مغربی حلب میں حملوں کی اطلاعات دی ہیں جن کے مطابق چار افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ نے بڑے علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے تاہم حالیہ مہینوں میں اسے متعدد مقامات پر شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ ستمبر کے آخری ہفتے کے دوران حلب کے محصور شہر پر روس اور شامی افواج کی بمباری کی وجہ سے 400 سے زیادہ شہری ہلاک ہوئے ہیں جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ حلب میں تقریباً پونے تین لاکھ عام شہری ابھی بھی مقیم ہیں اور یہ شہر مکمل تباہی کے دہانے پر ہے۔