ہولومالے: سمندر کی بلند ہوتی سطح کے بیچ بحرِ ہند میں ابھرنے والا ’امید کا ایک نیا جزیرہ‘

    • مصنف, نورمن مِلر
    • عہدہ, بی بی سی ٹریول

سری لنکا اور انڈیا کے جنوب مغرب میں واقع جزائرِ مالدیپ اس وقت دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے گرم علاقوں کے خوابوں کی ایک جنت ہیں، جہاں وہ سیفد ریت میں گھری مسحور کُن مرجانی چٹانوں کے مناظر کے درمیان بنی ہوئی دنیا کی بہترین معیار کی قیام گاہوں میں رہنے اور واٹر سپورٹس کھیلنے کے لیے آتے ہیں۔

لیکن شاید ہی کوئی اور قوم ہو جو مالدیپ کے رہنے والوں کی طرح معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہو۔

مالدیپ کے ساحلوں کی پُرتعیش قیام گاہیں اس وقت دنیا بھر میں مشہور ہیں، لیکن اس کے 1200 جزائر جو اس وقت ملک کا 80 فیصد حصہ بنتے ہیں، سطح سمندر سے ایک میٹر ہی کم بلندی پر ہیں اور سمندروں کی بلند ہوتی ہوئی سطح ان کے وجود کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

سنہ 2010 میں مالدیپ کے نائب صدر محمد وحید حسن نے عالمی بینک کی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ’ہم اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ خطرے کے شکار ممالک میں سے ایک ہیں۔‘ انھوں نے کہا تھا کہ سمندر کی بلند ہوتی ہوئی سطح کی اُس وقت کی پیشین گوئی کے اندازوں کے مطابق، مالدیپ کے سبھی قدرتی طور پر بسے ہوئے 200 جزائر سنہ 2100 تک ڈوب جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے

تاہم اس وقت مالدیپ کے عوام اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے سخت کوششیں کر رہے ہیں۔ سنہ 2008 میں اس وقت کے صدر محمد نشید اس وقت عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں آئے تھے جب انھوں نے ان جزائر کے پانی میں ڈوبنے کی صورت میں دنیا کے کسی اور مقام پر زمین خرید کر مالدیپ کے باسیوں کو منتقل کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

اس منصوبے کی جگہ اس خیال نے لے لی کہ بجائے اس کے کہ سمندر کے خلاف لڑا جائے کیوں نا اس کے ساتھ ہی زندہ رہنے کی کوشش کی جائے، اور تیرنے والی جدید شہری عمارتیں بنائی جائیں، جیسا کہ ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم میں کیا گیا ہے۔

اس طرح مالدیپ نے مختلف قسم کی جیو انجینئرنگ (ارضیاتی انجینئرنگ) کا رخ کیا۔ اس کے تحت ایک مصنوعی طریقے سے تیار کیے گئے جزیرے ’ہولومالے‘ پر 21ویں صدی کے شہر کی تعمیر کا منصوبہ تیار ہوا جس کا نام ’شہرِ امید‘ (سٹی آف ہوپ) رکھا گیا۔

کووِڈ 19 کی وبا سے پہلے جانے والے سیاح دارالحکومت مالے کے ایئر پورٹ سے آٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر اس نئے جزیرے تک، جو ابھی زیرِ تعمیر تھا، بذریعہ بس ایک لمبے پل سے گزر کر بیس منٹ میں پہنچ سکتے تھے۔

تاہم شاید چند ہی سیاح، جو مالدیپ مختصر سے آرام و سکون کے لیے چھٹیاں گزارنے آتے ہیں، ہولومالے کے ان سماجی مسائل کے بارے میں سوچتے جنھیں ہولومالے حل کرنا چاہتا ہے۔ پانچ لاکھ نفوس کی آبادی کے جزیروں میں مختلف شہری خدمات مہیا کرنا عملی طور پر ایک ڈراؤنا خواب ہے جس میں وسائل تیزی سے ہڑپ ہو جاتے ہیں۔

عالمی بینک کے ایک جائزے کے مطابق ملازمتوں کے مواقع کی کمی ایک اور بڑا مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے اس وقت مالدیپ میں نوجوانوں میں بیروز گاری کی شرح 15 فیصد ہے۔

پانی میں ڈوب جانے کے خطرے کے علاوہ بڑھتا ہوا ساحلی کٹاؤ بھی 70 فیصد انفراسٹرکچر کے لیے خطرہ ہے جو سمندری پانی سے 100 میٹر کے فاصلے پر ہیں۔ ان میں رہائشی گھر، دیگر عمارتیں اور بجلی و گیس، پینے کا پانی اور نکاسیِ آب وغیرہ شامل ہے۔

اس بات کی پریشانی بھی ہے کہ سمندر کا نمکین پانی پینے کے پانی کے وسائل کو ڈبو سکتا ہے، اس کے علاوہ سنہ 2004 کے سونامی جیسے حادثات کا خطرہ ابھی بھی موجود ہے جس نے مالدیپ میں 100 سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا تھا۔

شہرِ امید کی ہاؤسنگ ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے ایک ڈائریکٹر ارین احمد کہتے ہیں کہ ’سنہ 2004 کی سونامی کے بعد اس شہر کو زیادہ مضبوط بنانے کے لیے یہاں ایک نیا پروگرام شروع کیا گیا تھا۔ ہولومالے کے آرکیٹیکچر اور اس کی کمیونیٹیز کو موسمیاتی تبدیلی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تعمیر کیا جا رہا ہے۔‘

نئی زمین کی بازیابی کے لیے سمندر کی تہہ سے لاکھوں کیوبک ریت نکال کر نئے جزیرے کو سمندر کی سطح سے دو میٹر بلند بنایا کیا گیا ہے، اور اس شہرِ امید کو اس ملک کے دارالحکومت مالے کے متبادل ایک کلیدی شہر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں اس وقت ایک لاکھ تیس ہزار آبادی صرف ایک مربع میل میں آباد ہے۔

برطانیہ کے ماحولیات کے ایک تحقیقی ادارے ’ایکالوجی بائی ڈیزائین' میں سینئر ماہرِ ماحولیات، کیٹ فِلپوٹ، جو پہلے مالدیپ میں سائنسی مشاورت کے لیے کام کر رہی تھیں اور کوریلین لیبارٹری کے لیے ریف فِش پر ریسرچ کرتی تھیں، کہتی ہیں کہ ’مالے دنیا کا سب سے زیادہ گنجان آباد شہر ہے۔‘

ہولومالے کے لیے زمین کی بازیابی کا پہلا مرحلہ جس میں 188 ہیکٹر زمین کا قطعہ تشکیل دیا گیا تھا، سنہ 1997 میں شروع ہوا اور سنہ 2002 میں مکمل ہوا۔ دو برس کے بعد اس جزیرے نے پہلے ایک ہزار افراد کی آبادکاری کا جشن منایا۔ اس کے بعد مزید 244 ہیکٹر زمین سنہ 2015 اور سنہ 2019 میں بازیاب کی گئی، اور اب پچاس ہزار سے زیادہ افراد اس پر آباد ہو چکے ہیں۔

لیکن ہولومالے کے بارے میں وہاں کے حکام کے عزائم اس سے بھی زیادہ بڑے ہیں۔ تصور یہ ہے کہ بالآخر اس صدی کی موجودہ دہائی میں اس پر ڈھائی لاکھ افراد کو ایک بہت اعلیٰ منصوبے کے مطابق آباد کرنا ہے۔ اس تصور میں مختلف اقسام کے میعاری گھروں کی تعمیر، روزگار کے نئے مواقع، اور ہر شخص کے لیے مالے کی نسبت تین گنا زیادہ تفریحی جگہ مہیا کیا جانا شامل ہے۔

احمد کہتے ہیں کہ ایک بے ہنگم اور پُرہجوم مالے کے برعکس، ہولومالے کی منصوبہ بندی میں درخت اور سبزہ زاروں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

’عمارتوں کو جنوب سے شمال کے رخ میں تعمیر کیا گیا ہے تاکہ کم گرم رہیں اور درجہ حرارت کی آسائش بہتر ہو۔ گلیوں کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ہوادار ہوں۔ اور سکول، مسجدیں اور علاقے کے پارکس رہائشی علاقوں سے سو سے دو سو میٹر کے فاصلے پر ہوں تاکہ کار کا کم سے کم استعمال ہو۔ نئے منصوبے میں الیکٹرک بسیں اور سائیکلوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔‘

مختلف قسم کی ہاؤسنگ کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ احمد نے کہا کہ ’ہولومالے میں مختلف قسم کے ہاؤسنگ پراجیکٹس ہیں: درمیانی میعار کے، بہت زیادہ پر آسائش، اور کم آمدنی والوں کے لیے۔ ساٹھ فیصد درمیانی میعار کے گھروں کو ایچ ڈی سی کی مقرر کردہ قیمت پر فروخت کرنا ہے۔'

بعص سماجی گروہوں کے لیے کم قیمت کے گھر بھی رکھے گئے ہیں جن میں تنہا عورتوں، اور وہ گروہ جو تباہیوں اور بے گھر ہونے کے واقعات سے متاثر ہوں شامل ہیں۔ اس بارے میں بہت زیادہ غور و فکر گیا تھا کہ یہ گھر اور دوسری عمارتیں معذور افراد کے لیے بھی قابلِ استعمال ہوں۔

احمد نے بتایا کہ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اس شہر کی سماجی منصوبہ بندی کے ماحول-دوست اہداف سے مطابقت رکھتا ہے۔ وہ ہولومالے کو ’ایشیا کا سب سے پہلا سو فیصد گیگا بِٹ اِن ایبلڈ سمارٹ سٹی‘ کہتے ہیں، جس میں رہنے والوں کی ڈیجیٹل رسائی یہاں پر وسیع سطح پر پھیلے ہوئے آپٹک فائبر ٹیکنالوجی کے ذریعے ہو گی، اس ٹیکنالوجی کو جی پی او این، یعنی گیگابِٹ پیسِو آپٹیکل نیٹ ورک، کہا جاتا ہے۔

ہولومالے کی تعمیر میں مشاورت دینے والے کمپیوٹر سائینٹسٹ اور برطانیہ کی بریڈ فورڈ یونیورسٹی میں کمپیوٹر سائنس کے شعبے کے ڈائریکٹر، پروفیسر حسن اُگیل کہتے ہیں کہ ’بالکل نئے سرے سے ایک سمارٹ سٹی کو بنانے کا فائدہ یہ ہوگا کہ ہولومالے کو اپنی طاقت برقرار رکھنے کے لحاظ سے ایک مثالی شہر سمجھا جائے گا۔‘

ہولومالے کا ایک یہ بھی ہدف ہے کہ وہ پائیدار شہری ترقی کی تمام شرائط کو پورا کرے جس میں توانائی کا ایک تہائی حصہ شمسی توانائی سے حاصل کرنا اور بارش کے پانی کو محفوظ بنا کر اس سے پانی کی ضروریات کو پورا کرنا بھی شامل ہے۔

لیکن کیا ایک پورا شہر مصنوعی طریقے سے بنانا بذات خود ماحول کے لیے نقصان دہ نہیں ہے، خاص طور پر ایک ایسی جگہ جہاں مرجان کی چٹانیں اور سفید ریت اس کے ساحلوں کو نکھارتی ہو؟

جب بیلجیئم کی کمپنی ’ڈریجنگ انٹرنیشنل‘ نے سنہ 2015 میں جزیرے میں 244 ہیکٹر علاقے کی توسیع کا کام مکمل کیا تو اس آپریشن کے لیے اسے جزیرے کے ارد گرد سمندر کی تہ سے مشینوں کے ذریعے ساٹھ لاکھ کیوبک میٹر ریت نکال کر ہولومالے جزیرے پر بچھانی پڑی۔

برطانیہ کی نارتھمبریا یونیورسٹی میں جغرافیہ اور ماحولیاتی سائنس کے شعبے سے وابستہ اور مالدیپ کے جزائر میں مرجان چٹانوں کی ماہر ڈاکٹر ہولی ایسٹ کہتی ہیں کہ ’زمین کی بازیابی کا عمل مسائل سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ اس سے نہ صرف مرجان کی چٹانیں تباہ ہو جاتی ہیں بلکہ یہ سمندر کی تہہ میں ایسے تلچھٹ یا گاد کے غبار بنا دیتا ہے جو دیگر مرجان کی چٹانوں کی جانب سفر کرتے ہیں۔ یہ تلچھٹیں مونگوں کا دم گھونٹ دیتی ہیں اور سورج کی روشنی کو گہرائی تک پہنچنے سے روک دیتی ہیں جس سے ان کی خوارک کھلانے، نشو ونما پانے اور افزائش نسل کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔‘

تاہم آبادی کے مسلسل اضافے کی وجہ سے مالدیپ کے لیے زمین کی بازیابی ایک سیدھا سے حل رہ گیا ہے اور ظاہر ہے کہ اس کے لیے مرجان کی چٹانیں ایک بنیاد فراہم کرتی ہیں۔

فلپوٹ کہتی ہے کہ ’کوشش کی گئی ہے کہ ہولومالے کی تعمیر کا ماحولیات پر اثر زیادہ برا نہ ہو، جس میں مونگوں کی منتقلی بھی کی گئی ہے۔ لیکن ان کے کہیں اور منتقل ہونے کے بعد وہاں نشو ونما پانے کے قابل ہونے میں کافی وقت لگتا ہے اور اس میں کامیابی کا کم تناسب ہے۔‘

لیکن مالدیپ میں کام کرنے کے کئی برسوں کے تجربے کی وجہ سے فِلپوٹ اس سے مسابقت والی ضروریات سے آگاہ ہے۔ سیاح آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں لیکن مقامی لوگوں کو وہاں رہنے اور ملازمتوں کے لیے زمین کی ضرورت ہے۔ وہ ہولومالے کے بارے میں نسبتاً ایک طنزیہ بات بھی کہتی ہیں کہ یہ ایک ایسی زمین پر تعمیر کیا جا رہا ہے جو پہلے ہی سے کسی حد تک آلودہ ہو چکی ہے۔

وہ کہتی ہے کہ ’مالدیپ میں اس جگہ پر تعمیرات کے سب سے کم نقصان دہ اثرات کے امکانات ہیں۔ مالدیپ کی نسبتاً کم بگڑی ہوئی جگہوں کی بجائے کسی ایسی جگہ کو تعمیر کرنا بظاہر بہتر لگتا ہے جہاں کشتیوں کی آمد و رفت کی وجہ سے آلودگی پہلے ہی قدرے زیادہ ہو۔‘

اس حوالے سے عالمی بینک کی سنہ 2020 کی رپورٹ ان کی تائید کرتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’مالے کے بڑے خطے، خاص کر ہولومالے، میں قدرتی رہائش گاہیں نہیں ہیں اور مرجان کی چٹانیں زیادہ تر نچلے درجے کی ہو چکی ہیں۔‘

شہر کے فضلے کو رفع کرنا ابھی تک ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہولومالے کے تعمیراتی فضلے کے لحاظ سے بھی اور شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کے فضلے کے لحاظ سے بھی۔ فلپوٹ طنزیہ انداز میں کہتی ہے کہ ’زیادہ تر فضلہ اسی مقصد کے لیے تیار کیے گئے جزیرے تھیلافوشی میں منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

مالدیپ کے حکام اس خیال کو رد کرتے ہیں کہ یہ جزیرہ دراصل علاقے کا فضلہ دفن کرنے کی جگہ ہے، اگرچہ وہ یہ بہت ہی مبہم طریقے سے کرتے ہیں۔ احمد نے مجھے بتایا کہ ’تعمیرات کے نقصانات کے اثرات کو کم سے کم رکھنے کے تمام اقدامات کی نگرانی مالدیپ کی انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کرتی ہے۔‘

اب جبکہ ہولومالے کو مالدیپ کے عوام کی زندگیوں کو بہتر کرنے کے لیے تعمیر کیا جا رہا ہے، اس کا شہرِ امید بھی ان نئے سیاحوں کی توجہ کا مرکز بننا چاہتا ہے جو صرف ایک ساحل پر اپنے محدود سے ماحول میں لیٹے رہنے سے بڑھ کر کچھ کرنا چاہتے ہیں۔

مثال کے طور پر عالمی مالیاتی 2018 کی ایک رپورٹ مالدیپ میں میڈیکل اور سپورٹس سیاحت کو مستقبل میں بننے والے منصوبوں، مالدیپ کا پہلا اعلیٰ میعاری ہسپتال، واٹر تھیم پارک اور یاٹ مرینہ، سے جوڑ کر پیش کرتی ہے۔

فِلپوٹ کو امید ہے کہ تخیل کو جگانے والا ہولومالے مالدیپ کی اگلی نسل سے اپنے اردگرد کے ماحول کی وجہ سے زیادہ تعریف و توصیف حاصل کرے گا۔

وہ کہتی ہے کہ ’میں نے مالدیپ کے 14 برس سے 17 برس کے طلبا کو مرجان کی چٹانوں کے بارے میں پڑھایا ہے۔ لیکن آدھی سے زیادہ جماعت سانس لینے کا پائپ لگا کر پانی کے اندر نہیں گئی تھی۔ جب انھوں نے زیرِ آب زندگی کو دیکھا تو وہ ان کے لیے بہت ہی حیران کن تھا۔‘

لیکن ساتھ ہی انھیں افسوس بھی ہوا کیونکہ سمندر کے اتنے قریب رہتے ہوئے بھی پانی کے اندر جانے کا انھیں پہلے کبھی اتفاق نہیں ہوا تھا۔ شاید میرین بائیولوجی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے زیادہ براہ راست تعلیم کی بدولت نوجوانوں میں سمندری ماحولیات کے تحفظ اور حفاظت کے لیے دلچسپی پیدا ہو۔'

دوسرے الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ صرف ایک شہرِ امید تعمیر کرنے کی بجائے مالدیپ کے عوام دراصل جزیرے کی تعمیر کے عمل کو مستقبل کی جانب ایسے سفر پہ لے جا رہے ہیں جو مالدیپ کو ایک پر امید قوم بنا سکتا ہے۔