آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
فرانسیسی شکایت کرنا اتنا زیادہ کیوں پسند کرتے ہیں؟
- مصنف, ایمیلی موناکو
- عہدہ, بی بی سی ٹریول
فرانس میں اکثر اوقات گفتگو کا آغاز رنج و الم کی افسردہ علامتوں اور اشاروں سے ہوتا ہے۔ ’موسم خراب ہے، انگوروں کی فصل اس مرتبہ اچھی نہیں ہوئی، سیاستدان نااہل ہیں اور بے وقوف بھی ہیں۔‘
جب میں آج سے 10 برس قبل ایک چمکتی آنکھوں والی 19 برس کی نوجوان کے طور پر فرانس منتقل ہوئی تھی تو میں اتنی زیادہ شکایتوں کے انبار پر کافی پریشان ہوئی۔
میں نے سوچا کہ فرانسیسی اتنے زیادہ بدمزاج کیوں نظر آتے ہیں۔ تاہم جب میں نے ہمت کرکے اپنے ایک فرانسیسی دوست سے یہ بات پوچھنے کی جرات کی تو اُس نے یہ بات ماننے سے ہی انکار کردیا اور بولا: ’یہ شکایتیں نہیں ہیں۔ یہ بڑبڑاتے انداز میں فریادیں ہیں۔‘
فرانس میں ’شکایت‘ کے لیے کئی الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں: ایک ’سی پلینڈر‘ (شکایت کرنا) ہے، جسے پرانی شکایتوں کے کیے جانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پھر ایک لفظ ہے 'پورٹر پلینٹ' (شکایت درج کروائیں) دفتری انداز میں شکایت کا کیا جانا اور اس کے علاوہ ’رالر‘ (بڑبڑانا)، یعنی مزے کے لیے شکایت کیا جانا۔
فرینچ اینڈ آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی میں فرانسیسی زبان کے لیکچرر اور ایک بلاگ ’لہ موسیس ڈی پیری‘ کے ایڈیٹر ڈاکٹر گیما کنگ کہتے ہیں کہ ’غیر رسمی بڑبڑانا، چاہے یہ ایک بدمزاج چڑچڑا پن ہے (چاہے ہر وقت بن بن کرنا یا بد مزاج سے لگنا)۔ آپ کسی بات کے کرنے کے دوران بڑبڑا سکتے ہیں لیکن وہ کام کرتے جاتے ہیں، لیکن دفتری انداز میں شکایت کرنے کا مطلب یہ بنتا ہے کہ اب آپ یہ کام نہیں کریں گے اور اب کسی کو یہ شکایت سننا ہوگی کہ معاملہ کیا ہے۔‘
جب میں فرانس میں مستقل رہائش کے ابتدائی دنوں میں اس کے لیے درخواستیں دینے کے مرحلے سے گزر رہی تھی اور جب فرانس کی شہریت ایک بہت بڑا خواب نظر آتا تھا، تو ان دنوں مذاقاً کہا کرتی تھی کہ میں اپنی ان درخواستوں کے جواب ملنے سے پہلے یہ جان لوں گی کہ میں ایک سچی فرانسیسی بن چکی ہوں کیونکہ میں اس وقت بد مزاج انداز میں کراہنے اور بڑبڑانے کی ایک بے قابو عادت اپنا چکی ہوں گی۔
اس اہم دن کی تیاری کے لیے میں جعلی انداز میں جو بھی مجھے سنے گا میں اُس پر غراؤں گی، مثلاً آج سوپ بہت بدمزا ہے، سلاد بہت گرم ہے، ہمسائے نے مجھے آج سلام نہیں کیا۔
لیکن اس وقت جب ایک فرانسیسی کی طرح آہیں بھرنے کی کوشش کرتی، جو میرے خیال میں قدرے ناکام کوشش تھی، جیسا کہ ایک بچہ جو ابھی بڑا ہو رہا ہو اور اسے زبان پر عبور حاصل نہ ہو اور وہ ٹیلیفون پر کسی سے بڑوں کے انداز میں بات کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ یہ مناسبت کہ کہاں، کس سے اور کن حالات میں بڑبڑانا ہے ایک نفیس قسم کا فن ہے، جس پر مجھے ابھی عبور حاصل کرنا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فرانس میں اکثر اوقات شکایت کسی بھی گفتگو کے آغاز کا ایک مناسب موضوع ہے۔ آپ ایک ریستوران میں وہاں کی خراب سروس کی شکایت سے گفتگو کا آغاز کرسکتے ہیں چاہے وہاں کا کھانا بہت زبردست ہو یا یہ شکایت کرنا کہ میرے فلیٹ کی کھڑکی مشرق کی جانب کھلتی ہے اس لیے مجھے اب پردے خریدنا پڑیں گے۔
لیکن کینیڈا کی ایک صحافی اور ایک کتاب 'دی بنجور ایفیکٹ' کی شریک مصنفہ جیولی برلو کہتی ہیں کہ 'امریکیوں کے لیے کوئی منفی بات کرنے کا مطلب ہے کہ آپ گفتگو ختم کرنا چاہ رہے ہیں۔' جب کہ فرانس میں اس قسم کی بات کرنے کا مطلب ہے کہ آپ دوسرے کو 'اپنی رائے دینے کے لیے دعوت دے رہے ہیں۔'
وہ کہتی ہیں کہ شمالی امریکہ کے رہنے والے لوگ مخالفانہ انداز میں بات کرنا یا تنقید کرنا پسند نہیں کرتے، جیسا کہ فرانسیسی پسند کرتے ہیں۔ پھر آتا ہے بدمزاج انداز میں بڑبڑانا ’جو کہ بہ نسبت ایک چمک والی آنکھوں والے پرامید کے زیادہ بہتر انداز میں سمجھا جاسکتا ہے۔‘
انا پولونی جو کہ فرانسیس-ہنگری-امریکی مصنفہ ہیں اور پیرس انسٹیٹیوٹ فار کریٹیکل تھنکنگ کی سربراہ ہیں، یہ مؤقف اختیار کرتی ہیں کہ شاید اس فرق کی جڑیں وہ بنیادی خوف ہے جو کئی امریکیوں کے لیے مشترک ہو: وہ یہ کہ کہیں وہ 'شکست خوردہ شخص' نہ تصور کیے جائیں۔
وہ کہتی ہے کہ 'فرانس میں اس کے لیے ایسا کوئی لفظ نہیں ہے۔ ایک شکست خوردہ شخص ہونے کے لیے آپ کے ارد گرد کی دنیا کو ایسی چیزوں کے بارے میں سوچنا ہوتا ہے جو جیت سے وابستہ ہوں۔ اور میں یقینی طور پر نہیں کہہ سکتی کہ یہاں لوگ ایک دوسرے سے معاشرتی طور پر ملنے جلنے کے دوران اس بات کو (یعنی جیت کو) ضروری سمجھتے ہوں۔'
برلو کے مطابق فرانس میں گفتگو کو 'دو افراد کے درمیان جنگ' طور پر دیکھا جاتا ہے، اور شاید اس کی ابتدا کا پہلا حملہ ایک شکایت کی صورت میں بنتا ہے، جو کہ ایک جتانے والی دانشوری کا مظاہرہ ہے۔ 'ایسی کوئی بات جو لوگوں کو بہت ناقدانہ صلاحت کا حامل بنا کر پیش کرتی ہے، جیسا کہ وہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، نہ کہ سادہ لوح ہیں۔'
پولونی کو اس بات کا ذاتی تجربہ اس وقت ہوا تھا جب وہ فرانس سے ہجرت کرکے امریکہ کی آئیووا ریاست آئیں جہاں وہ پلی بڑھیں۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ لوگ جتنا ممکن ہوتا تھا اتنی حد تک منفی بات کرنے سے گریز کرتے تھے اور شکایتوں کا سلسلہ اُس وقت کرتے جب حالات ان کی برداشت کی طاقت سے باہر ہو جائیں۔
وہ کہتی ہے کہ ’یہ اس طرح سے شکایت نہیں تھی جس طرح ہم کرتے ہیں، یہ دل کا غبار نکالنا تھا۔ مجھے ایسے لگا کہ لوگ اپنے آپ کو اس طرح شکایت کرنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے کہ کہیں لوگ آپ سے بے تکلف نہ ہوجائیں۔ وہ اس وقت تک کچھ خاص کوشش نہیں کر رہے تھے جب تک کہ ان کے لیے ناممکن نہ ہوجائے۔‘
پولونی نے تو اپنی شکایت میں ایک بات اضافہ کر کے امریکیوں کے بھڑکنے کا بھی مذاق اڑانے کی کوشش کی۔ وہ کہتی ہے کہ 'جب میں انگریزی میں شکایت کرتی ہوں، تو یہ کہانی کی صورت میں ڈھل کر تباہ ہوجاتی ہے۔ میری یہ خاص توقع ہوتی ہے کہ اس گفتگو کے اختتام پر مجھے یہ تاثر دینا ہے کہ جیسے یہ مسئلہ ٹھیک ہو جائے گا۔‘
میرے خیال میں فرانسیسی اپنے بارے میں اور اپنی زندگیوں کے بارے میں پُرامید ہیں اور مثبت سوچ والے لوگ ہیں، لیکن وہ اپنے ملک کے بارے میں سخت رویہ رکھتے ہیں۔
فرانس میں گفتگو کے کسی انجام تک پہنچنے کی کوئی ضرورت نہیں سمجھی جاتی۔ وہ کہتی ہیں کہ 'میں ایسا محسوس کرتی ہوں کہ میں کسی ایک مسئلے کی واضح انداز میں شکایت کرسکتی ہوں، میں زیادہ دوسرے شخص کو قائل کرسکوں کہ وہ میرے خراب حالات کی وجہ سے میرے لیے ہمدردی محسوس کرے۔'
فرانسیسیوں کا شکایت کرنے کا انداز انگریزی بولنے والے لوگوں کے لیے آرام دہ نہیں ہوتا۔ ان میں کئی یہ کہتے ہیں کہ منفی باتوں سے منفی باتیں نکلتی ہیں۔ لیکن کئی ماہرین کے مطابق فرانسیسیوں کا رویہ شاید صحت کے لیے بہتر ہو۔
سنہ 2013 کی حیاتیاتی نفسیات (بائیولوجیکل سائیکیاٹری) کی ایک تحقیق کے مطابق منفی جذبات و خیالات کو کنٹرول کرنے کا امراض قلب کے ساتھ تعلق بنتا ہے جبکہ سنہ 2011 کی آسٹن شہر میں یونیورسٹی آف ٹیکساس کی اور تحقیق کے مطابق منفی جذبات کے جمع ہونے سے لوگ اپنے رویے میں زیادہ جارح ہو سکتے ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ شکایت کرنا ہمیشہ ایک مثبت بات ہے۔ بہت زیادہ شکایتیں کرنے سے آپ ایک چکر میں پھنس جاتے ہیں، حقیقت میں اس سے آپ اپنے دماغ کو اس بات کی تربیت دیتے ہیں کہ وہ ہمیشہ منفی چیزوں کی جانب توجہ دے۔ لیکن یہ فرانسیسی انداز کا بڑبڑانا شاید آپ کے ذہن کو کسی حد تک برے اثرات سے محفوظ رکھے کیونکہ یہ اپنی زندگیوں کے بارے میں کم شکایتیں کرنے کے بجائے معروضی حالات کی شکایت کرتے ہیں۔
رائے عامہ کے ایک جائزے کے مطابق 48 فیصد فرانسیسیوں جن سے رائے لی گئی، ان کی زیادہ تر شکایتیں حکومت کے بارے میں تھیں۔ اس لیے یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہونی چاہیے کہ ابھی حال ہی میں جب ایک میڈیا ادارے 'پولیٹیکو' نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ فرانس کے صدر عمانیول میکخواں کے کورونا وائرس سے نمٹنے کے انداز کے بارے میں فرانسیسی عوام کی رائے کافی منفی تھی۔
رائے عامہ کے جائزے کے مطابق فرانسیسیوں کی شکایتوں کے موضوعات میں ان کے ذاتی مسائل بہت نچلی سطح پر آتے ہیں۔ جس کے مطابق 23 فیصد لوگ تب شکایت کرتے ہیں جب وہ کسی کو فون کریں اور دوسرا واپس کال نہ کرے، 33 فیصد کی یہ شکایت تھی کہ وہ اپنی چابیاں یا اپنا فون ڈھونڈ نہیں پاتے ہیں، اور صرف 12 فیصد فرانسیسیوں کی شکایتیں ان کے اپنے بچوں کے متعلق ہوتی ہیں۔
برلو کہتے ہیں کہ 'میرے خیال میں فرانسیسی اپنے بارے میں اور اپنی زندگیوں کے بارے میں پُرامید ہیں اور مثبت سوچ والے لوگ ہیں، لیکن وہ اپنے ملک کے بارے میں سخت رویہ رکھتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے اجلاس میں میں مت جاؤ، فرانس کی تعریف مت کرو، لوگ تم پر ہنسیں گے۔'
بیلجیئم کی کیتھولک یونیورسٹی کے ایک محقق مارگوٹ باسٹین جنہوں نے منفی جذبات کو اپنے اندر محفوظ کر لینے کے موضوع پر ایک تحقیقی مقالہ لکھا ہے، کہتے ہیں کہ یہ حقیقت کے فرانسیسی ان موضوعات پر توجہ دیتے ہیں جو کے ان کی ذات سے متعلقہ نہیں ہوتے ہیں، شاید اُن کے لیے صحت مند بات ہو۔ لیکن باسٹین کی تحقیق نے یہ بھی بتایا کہ اگرچہ ایک خاص مقدار میں دل کی بھڑاس نکلنا مددگار ہوتا ہے، تاہم اگر یہ شکایتوں کا بہت زیادہ ہو اور سلسلہ طول پکڑ لے تو یہ ضرر رساں ہو جاتا ہے ۔'
اگر کوئی شکایت کرتا ہے تو میں محسوس کرتا ہوں کہ اس میں کوئی نہ کوئی بات ہے۔
پولونی نے اس بات کو نوٹ کیا کہ فرانسیسی مجموعی طور پر اپنی شکایت کو بہت زیادہ تباہ کن انداز میں بیان نہیں کرتے، اور شاید ہی کبھی شکایت کا مقصد مسئلے کا حل نکالنا ہوتا ہے۔ جبکہ ایسے امریکیوں کی کوئی کمی نہیں ہے جو اپنے مینیجر سے غلط بات کو ٹھیک کرنے کے لیے بات کرتے ہیں یا ایسے برطانوی ہیں جو اونچی آواز میں آہ بھرتے ہیں جب کوئی غلط طریقے سے قطار میں کھڑا ہو، فرانس میں شکایت کو مسئلہ حل کرنے کا ذریعہ نہیں سمجھا جاتا ہے۔
برلو کہتی ہیں کہ 'میں نہیں سمجھتی کہ جب وہ شکایت کر رہے ہوتے ہیں تو ان کا مطلب بھی یہ ہو کہ وہ کوئی تبدیلی چاہتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ ایک ثقافتی معاملہ ہے، ایک بات چیت کی پھڑک۔'
بات چیت کی دیگر پھڑکوں کی طرح، جیسا کہ جواب سننے کی خواہش کے بغیر دوسرے پوچھنا کہ اس کا کیا حال ہے، فرانسیسی معاشرے میں شکایت ایک ذاتی نوعیت کے تعلق بنانے کا نام ہے۔
اور یہ ایک مناسب طریقہ ہے۔
امریکی ریاست اوکلوہاما کی ایک یونیورسٹی کی ایک تحقیق نے یہ دکھایا کہ شکایت کا رابطہ بنانے میں شاید ایک مثبت اثر ہو، اور ایک تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ شکایت ایک فائدہ مند رشتہ بھی بناتی ہے۔
باسٹین کہتے ہیں کہ 'دوسرا شخص آپ کو سن رہا ہے، آپ اس سے اپنا ایک رشتہ محسوس کرتے ہیں، آپ واقعی دوسرے شخص کو اپنے قریب محسوس کرتے ہیں، آپ محسوس کرتے ہیں کہ وہ آپ کو سمجھ رہا ہے۔'
جہاں تک مزاح کی بات ہے میں نے اپنے آپ کو اتنا فرانسیسی محسوس نہیں کیا جب میں ایک ایسی صورت کو چھوڑ کر آگے بڑھ گئی جس میں میرا غیر ملکی ہونا واضح ہو کر نظر آرہا تھا: پولیس کے دفتر میں جاکر اپنے ریزیڈینسی کارڈ کی تجدید کروانا۔ فرانسیسی فلسفی اور مصنف، کافکا کے انداز کے دفتری بھول بھلیّوں کے ایک سفر سے گزر کر میں ہر اُس شخص سے اس کی شکایت کروں گی جو مجھے سننے کے لیے راضی ہوگا اور میں ان ذمہ دار اہلکاروں کی نااہلیت، متروک انداز کی دستاویزات کے مانگے جانے کی ایک زبردست تصویر بناؤں گی۔
اور میرے فرانسیسی دوست جنھیں اس طرح کا کبھی تجربہ نہیں ہوا ہو گا، وہ بھی اس طرح کی شکایات اپنے اپنے واقعات کے حوالے سے بیان کرنے لگتے ہیں: مثلاً محکمہِ ٹیکس کے دفتروں میں جانے کے تجربات، جہاں دفتری عملہ پورے نظام کو آپ کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک مشترکہ شکایت تھی۔
فرانس میں کئی برس رہنے کے بعد میں اب مقامی لوگوں کے ساتھ ایک اپنائیت والا تعلق بنا رہی ہوں، مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس رشتے کو بنانے کے لیے مجھے اتنی ہی زیادہ شکایت کرنے کی ضرورت تھی۔
پولونی کہتی ہیں کہ 'اگر کوئی شکایت کرتا ہے تو میں محسوس کرتی ہوں کہ کوئی نہ کوئی بات ضرور ہے۔ اور مجھے شکایت کے درست ہونے کا یقین ہو جاتا ہے۔ کیونکہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے شکایت کرنا ایک لحاظ سے خود کے خطرے میں ہونے کا اعتراف کرنا ہے۔‘