آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا شیر واقعی جنگل کا بادشاہ ہے؟
یونانی دیوتا ہرکولیس کے ہاتھوں مارے گئے نیمین شیر سے لے کر شیر جیسے منہ والے جنگ کے دیوتا ماحس تک شیروں کے قدیم تصورات نے دنیا بھر میں کئی خیالی داستانوں کو جنم دیا ہے۔
تقریبا سبھی تہذیبوں میں شیروں کو اہم مقام حاصل رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں بھی شیروں کے بارے میں کئی خیالی تصورات بنائے ہیں۔
نسل در نسل سنائی جانے والی شیروں کی کہانیاں اور ان سے منسلک خیالی داستانوں کے درپردہ سچائی کیا ہے۔ آئیےجانتے ہیں۔
شیر جنگل کا بادشاہ نہیں ہے
امریکی فلم ساز کمپنی ڈّنی کی کلاسک فلم 'لائن کنگ' بھلے ہی آپ کو بہت اچھی لگتی ہو اور اس کی کہانی کو آپ سچ سمجھتے ہوں، لیکن بادشاہ مفاسا یا شہزادہ سمبا کی طرح شیروں یا افریقہ کے سبھی جانوروں کا کوئی انچارچ یا سربراہ نہیں ہوتا۔
شیروں میں بادشاہ اور ملکہ نہیں ہوتے، بلکہ وہ مساوی طور بنا کسی درجہ بندی کے رہتے ہیں۔
شیروں میں سربراہ یا اعلیٰ درجہ پر فائض ہونے کا تنظیمی ڈھانچہ نہیں ہوتا۔ مطلب ان کے ہاں کوئی بادشاہ شیر نہیں ہے، کوئی ملکہ شیرنی نہیں ہے۔ کوئی جانشین نہیں ہے۔ کوئی درجہ بندی یا عہدہ نہیں ہے۔
شیروں کے بارے میں حقیقتا سب سے اچھی بات یہ ہے کہ شیروں کا سماج مساوات کا سماج ہے، جس میں سبھی شیر برابر ہوتے ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ کسی نر شیر کے پاس سب سے خوبصورت شیرنی ہو اور وہ اس مادہ کی حفاظت کرتا ہو، لیکن وہ شیر بادشاہ شیر قطعا نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شیروں کا سماج حقیقت میں بہت ہی دلچسپ سماج ہے۔ لیکن انسان یہ سمجھ نہیں پاتے کہ شیر حقیقت میں کتنے دوستانہ ہوتے ہیں اور ان میں کوئی درجہ بندی کا نظام نہیں ہوتا۔
درختوں کے بغیر جنگل کے بادشاہ
شیروں کے لیے 'جنگل کا بادشاہ' کی اصطلاح بہت مشہور ہے۔ ہزاروں کہانیوں میں ایسا ہی بتایا گیا ہے، لیکن شیروں کے حوالے سے یہ بالکل سچ نہیں ہے۔
'جنگل کے بادشاہ' کی اصطلاح گمراہ کن ہے، کیونکہ شیر اصل میں جنگل میں نہیں رہتے اور جیسا کہ ہم نے اوپر پڑھا ہے کہ ان میں کوئی بادشاہ نہیں ہوتا۔
شیر جھاڑیوں میں، لمبی گھاس والے بڑے میدانوں میں اور چٹانوں اور پہاڑیوں پر رہتے ہیں، لیکن وہ درختوں والے جنگلوں میں نہیں رہتے۔
شیروں کے معاملے یہ غلطی ترجمے میں غلطی کی وجہ سے ہوئی ہے۔
انگریزی کا 'جنگل' لفظ اردو یا ہندی کے 'جنگل' لفظ سے لیا گیا ہے۔ اردو یا ہندی میں جنگل کا مطلب ہوتا ہے: جنگل یا ویران اور بنجر زمین۔
بنجر زمین کی تعریف گھاس کے کھلے میدانوں پر آسانی سے لاگو ہو سکتی ہے۔
شیروں کے لیے 'جنگلی جانوروں کے بادشاہ' کی اصطلاح یہاں متنازع نہیں ہے۔ اگر آپ اسے چیلنج کرنا چاہیں تو کسی شیر سے لڑ کر اس کا اندازہ کر سکتے ہیں۔
البینو نہیں سفید شیر
افریقہ میں سفید شیروں کو مقدس جانور سمجھا جاتا ہے۔ ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ وہ البینو ہیں۔
ویسے البینو شیر بھی ہوتے ہیں، لیکن سفید شیر اس طاقتور جانور کی ایک الگ نسل سے ہیں۔ وہ البینو نہیں ہیں۔
سفید شیروں کے نسلی ارتقا میں ایک الٹ سمت میں ہونے والا طبدیلی دیکھی گئی ہے۔ اسے لیوسزم کہا جاتا ہے۔ اس میں شیر کے جسم میں میلانن کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔
میلانن ایک پگمنٹ ہے جو شیر کے بالوں اور ان کی آنکھوں کے رنگ کا تعین کرتا ہے۔
میلانن کی کمی ہونے پر شیروں میں کیسریا رنگ کم ہونے لگتا ہے اور وہ سفید دکھائی دینے لگتے ہیں۔
اصل میں آنکھوں کے رنگ سے سفید شیروں اور البینو شہروں کی پہچان ہوتی ہے۔ سفید شیروں کی آنکھیں نیلی ہوتی ہیں، جبکہ البینو شیروں کی آنکھیں لال یا گلابی ہوتی ہیں۔
لمبے بال ہونا کامیاب نر کی نشانی؟
شیر کی گردن پر لہراتے لمبے بالوں کو عام طور پر ان کی جنسی کشش کو ماپنے کے طریقے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
نر شیر کی گردن پر جتنے زیادہ اور گھنے بال ہوتے ہیں، مادہ شیروں کو مائل کرنے کی ان کی صلاحیت اتنی ہی زیادہ سمجھی جاتی ہے۔
لیکن سامنے آنے والے نئے ثبوتوں سے پتا چلا ہے کہ یہ اصول ہر جگہ لاگو نہیں ہوتا۔
تساوو (کینیا) میں بالوں کے بغیر نر شیروں نے نہ صرف مادہ شیروں کو مائل کیا، بلکہ دوسرے نر شیروں سے اپنے علاقے کی حفاظت کرنے میں بھی کامیاب رہے۔
گردن پر لمبے بال ہونے کا مطلب نر شیر ہونے کی ضمانت بھی نہیں ہے۔ شیرنیوں میں بھی لمبے بال پائے گئے ہیں، خاص طور پر بوسٹوانا کے اوکاوانگو ڈیلٹا کے علاقے میں رہنے والے شیروں میں۔
یہ شیرنیاں عام طور پر نر شیروں جیسی سرگرمیوں میں شامل رہتی ہیں اور ان میں بانجھ پن کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔
خود شکار کرنا
شیروں کے بارے میں ایک عام خیال یہ بھی ہے کہ سبھی شکار مادہ شیر ہی کرتی ہیں، لیکن نئے ثبوتوں سے لگتا ہے کہ یہ خیال بالکل درست نہیں ہے۔
شیرنی کی بنیادی کردار شکار کرنے کا ہے، جب کہ نر شیر اپنے علاقے کی حفاظت کرتے ہیں۔ لیکن نر شیر خود شکار کرنے کے قابل بھی ہوتے ہیں۔
اتنا ہی نہیں، تحقیق سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ شکار کے معاملے میں کامیابی کی شرح شیر اور شیرنیوں دونوں میں لگ بھگ برابر ہے۔
شیر شکار کے لیے بھی نکلتے ہیں اور کامیاب بھی ہوتے ہیں۔