آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جنریشن زی: کیا نئی نسل پیار اور سیکس کے معاملے میں زیادہ حقیقت پسند ہے؟
- مصنف, جیسیکا کلین
- عہدہ, بی بی سی
اس آرٹیکل میں ’جنریشن زی‘ اور ’ملینیئلز‘ کی اصطلاحیں استعمال کی گئی ہیں۔ سادہ الفاظ میں جنریشن زی (یا نئی نسل) میں وہ نوجوان آتے ہیں جو نوّے کی دہائی کے وسط (یعنی 1995) سے لے کر 2000 کی دہائی کے آخر (یعنی سنہ 2010) تک پیدا ہوئے۔ جبکہ ملینیئلز سے مراد جنریشن زی سے پچھلی نسل ہے جو اسّی کی دہائی کے اوائل (یعنی سنہ 1980) سے لے کر نوّے کی دہائی کے وسط (یعنی سنہ 1995) تک پیدا ہوئی۔
’کیا تم سیٹل (settle) ہونے کے لیے تیار ہو؟‘
یہ سوال، امریکہ کے ییل کالج کی طلبہ کیونگ می لی نے فروری 2020 میں کالج کی نیوز ویب سائٹ پر چپھنے والے ایک آرٹیکل میں پوچھا۔ اس آرٹیکل کا عنوان تھا ’سیٹلنگ ڈاؤن: رومینس اِن دی ایرا آف جین (جنریشن) زی۔‘
اس میں یہ سوال پوچھا گیا کہ کیا وہ خود (کیونگ می لی) اور اُن کے نوجوان دوست، ملینیئلز کی طرح شادی دیر سے کریں گے؟
اس آرٹیکل کو چپھے دو برس کا عرصہ بیت چکا ہے اور 23 برس کی لی کا خیال ہے کہ اس سوال کا جواب 'ہاں' میں ہے۔ لیکن اس کی وجوہات وہ نہیں جو کہ ملینیئلز کی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’میرے خیال میں ملینیئلز کے طویل مدتی رشتے قائم نہ کرنے کی وجہ یہ ہے ان کے جنسی روابط زیادہ تھے۔‘
یعنی کہ کہ ملینیئلز نے طویل مدتی رشتے اس لیے قائم نہیں کیے کیونکہ وہ اپنی سنگل لائف کا فائدہ اٹھا رہے تھے۔ لی کہتی ہیں کہ ملینیئلز کے برعکس جینیریشن زی اس لیے ایسے رشتوں میں نہیں پڑنا چاہتی کیونکہ وہ ان معاملوں میں خود شناسی سے کام لیتے ہیں۔
اس موضوع پر کی گئی تحقیق بھی لی کی رائے کی تصدیق کرتی ہے۔رشتوں کے حوالے سے نئی نسل (جینیریشن زی) کی سوچ اپنے سے پچھلی نسل کے مقابلے میں مختلف ہے اور اُن کا رویہ حقیقت پسندانہ ہے۔ جبکہ جنریشن زی پچھلی نسل کے نوجوان کے مقاملے میں سیکس بھی کم کر رہی ہے۔
وائس میڈیا گروپ کے انسائٹس ڈپارٹمنٹ کی ایس وی پی جولی آربٹ کہتی ہیں ’وہ (جنریشن زی) اس بات کو سمجھتے ہیں کہ زندگی میں مختلف مقامات پر ان کے ساتھ مختلف پارٹنر ہوں گے جو کہ اُن کی اس وقت کی ضروریات پوری کریں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اپنی تحقیق میں انھوں نے امریکہ اور برطانیہ سے پانچ سو لوگوں کو چُنا جن میں زیادہ تر جنریشن زی اور میلینیئلز شامل تھے، جبکہ جنریشن ایکس کی چھوٹی تعداد کو صرف موازنہ کرنے کی خاطر شامل کیا گیا۔
اس تحقیق میں جینیریشن زی کے ہر دس میں سے صرف ایک شخص نے یہ کہا کہ وہ کسی کے ساتھ لمبے عرصے تک رہنے کی سوچ پر یقین رکھتے ہیں۔
بہت سے دوسرے محققین نے بھی اس سوچ کی تصدیق کی ہے۔ انڈیا میں جنریشن زی پر کی گئی ایک تحقیق میں شامل لوگوں میں سے 66 فیصد نے کہا کہ اُن کا اس بات پر یقین ہے کہ سارے رشتے ہمیشہ کے لیے نہیں رہیں گے جبکہ 70 فیصد لوگوں نے رومانوی رشتوں کو محدود نہ رکھنے پر حامی بھری۔
محققین اور جنریشن زی دونوں ہی اس کی وجوہات بیان کرتے ہیں۔ پہلا یہ کہ، یہ جنریشن (نئی نسل) ایک ایسے عرصے میں بڑی ہو رہی ہے جب ہر طرف غیر یقینی کی صورتحال ہے۔ کووڈ 19 کی وبا، تیزی سے بگڑتی ہوئی کلائمٹ چینج یا موسمیاتی تبدیلی کی صورتحال اور اقتصادی عدم توازن۔ جینیریشن زی کے بہت سے لوگوں کو ایسا لگتا ہے کہ اپنی زندگی میں ایک اور انسان لا کر وہ اسے بہتر کر سکتے ہیں اور اس میں توازن لا سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی رشتوں کے بارے میں کثیر تعداد میں آن لائن معلومات ہونے کے باعث انھیں بہت سے پہلوؤں کا علم ہے۔ وہ نہ صرف بہت واضع انداز میں یہ سمجھتے اور بتاتے ہیں کہ اُن کا ساتھی اُن کی شناخت اور اُن کی ضرورتوں کو نقصان نہ پہنچائے بلکہ یہ بھی کہ انھیں اس رشتے سے کیا حاصل ہو گا۔
آربٹ کہتی ہیں ’وہ اپنے آپ پر ہائپر فوکسڈ (بہت زیادہ مرکوز) ہیں اور اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ خود غرض ہیں۔ انھیں اس بات کا علم ہے کہ اپنی ترقی اور خوشی کے ذمہ دار وہ خود ہیں۔ اور اگر انھیں دوسروں کا خیال رکھنا ہے تو پہلے انھیں اپنا خیال رکھنا ہو گا۔‘
توازن کی تلاش
سٹیفنی کونز امریکہ میں کنٹیمپرری فیمیلیز نامی ایک کونسل کے ریسرچ اینڈ پبلک ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی ڈائریکٹر ہیں۔
وہ کہتی ہیں ’1960 اور 1970 کے دوران ایک پچیس برس کا مرد اپنی آمدنی سے پورے گھر کے اخراجات اٹھا سکتا تھا اور اس کی بیوی گھر بیٹھ کر امور خانہ داری دیکھ سکتی تھی۔ جینیریشن زی سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگوں کے لیے یہ بات نہ صرف ان کے روایتی ماحول میں فٹ نہیں ہوتی ہے بلکہ کچھ کے لیے تو یہ مضحکہ خیز بھی ہے۔‘
امریکہ کی نارتھ کیرولائنا یونیورسٹی میں سوشیولاجی کی پروفیسر ایریل کوپربرگ کہتی ہیں کہ جنریشن زی کے لوگ مالی طور پر مضبوط ہونے کی سوچ کو فوقیت دے رہے ہیں جس کی وجہ سے اُن کے شادی کرنے کے وقت میں اضافہ ہو رہا ہے (یعنی وہ دیر سے شادی کرتے ہیں)۔
’لوگوں کے شادی کرنے کے وقت میں اضافہ اس لیے ہوتا جا رہا ہے کیونکہ مالی طور پر مستحکم ہونے کے وقت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے (یعنی آج کی نسل تھوڑا دیر سے اپنے پاؤں پر کھڑی ہوتی ہے)۔‘
یہ بھی پڑھیے
لی اور ان کی دوستیں اس بات سے اتفاق کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ وہ خود کو ’تاریخ میں مالی طور پر سب سے غیر محفوظ نسل کا حصہ سمجھتی ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ شادی سے پہلے مالی خود مختاری، حاصل کرنا چاہتی ہیں۔‘
یونیورسٹی میں ایک سینیئر سٹوڈنٹ کی حیثیت سے وہ کہتی ہیں کہ ان کی دوستیں بھی اپنے کیریئر کو رشتوں پر ترجیح دے رہی ہیں۔ ’ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ میرا کوئی دوست ہو جو یہ کہتا ہو کہ اسے کسی انسان کی خاطر کسی دوسری جگہ منتقل ہونا ہے۔‘ بجائے اس کے ان کے دوست اپنے کیریئر پر توجہ دے رہے ہیں اور ساتھ ہی یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ اپنے رشتوں کو اس میں کیسے فٹ کر سکتے ہیں۔
کوپربرگ کی تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے۔ انھوں نے میلینیئلز کے برعکس جنریشن زی (نئی نسل) میں یہ دیکھا ہے کہ وہ اپنے کیریئرز پر زیادہ فوکس کر رہے ہیں اور زیادہ تر ڈیٹس پر جانے کے قائل نہیں ہیں۔
وہ کہتی ہیں ’میرا نہیں خیال کے وہ مستحکم رشتے نہیں چاہتے بلکہ وہ صرف رشتے کے بندھن میں بندھنے میں دیر کر رہے ہیں۔' کوپربرگ کو تحقیق سے بھی پتہ چلا کہ نوجوان لوگ خصوصاً وہ جن کی عمریں بیس کے آس پاس ہیں معاشی وجوہات کی بنا پر اکیلے نہیں رہ سکتے۔ جس کی وجہ سے وہ اپنے والدین کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ 'اسی وجہ سے کیزیول رلیشنشپس میں تیزی آئی ہے اور سیریس ریلیشنشپس (کسی سنجیدہ بندھن میں بندھنا) میں کمی کیونکہ ان رشتوں کو بنانا اب مشکل ہو گیا ہے۔‘
حال ہی میں کووڈ کی وجہ سے بھی حالات ایسے ہوگئے کہ نوجوان لوگوں کا اکیلے رہنا ممکن نہیں رہا۔ کوپربرگ نے موسمِ خزاں کے دوران 2020 میں ایک نوجوان کا انٹرویو کیا۔ یہ لڑکا کووڈ کے شروع ہوتے ہی واشنگٹن سے اپنے والدین کے پاس نارتھ کیرولائنا منتقل ہوگیا تھا۔ اس نے محققین کو بتایا کہ جب تک وہ واپس واشنگٹن منتقل نہیں ہوتا تب تک وہ کسی کو ڈیٹ نہیں کرے گا۔
ساتھی کی تلاش
ستمبر 2020 میں وائس میڈیا گروپ کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق 'لو آفٹر لاک ڈاؤن' میں 45 فیصد لوگ جینیریشن زی (نئی نسل) کے تھے ان میں سے 75 فیصد لوگ سنگل تھے اور کووڈ کے دوران کسی کو بھی ڈیٹ نہیں کر رہے تھے۔ بہت سے لوگوں نے یہ کہا کہ وہ کوئی بھی رشتہ شروع کرنے سے پہلے یہ وقت اکیلے گزار کر اپنے آپ کو جاننا چاہتے ہیں۔
اٹلی سے جنریشین زی میں شامل ایک مرد کا کہنا ہے کہ ’میں اپنے بارے میں سوچنے لگا، میں کیا کرنا چاہتا ہوں اور کیا نہیں۔ اس نے مجھے بہت کچھ سکھایا۔‘ جبکہ امریکہ میں جنریشن زی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کہتی ہیں ’میں جسمانی طور پر سب سے دور تھی اور میں خود کو مہلت دے کر یہ سوال پوچھ سکتی ہوں کہ میں کون ہوں۔‘
لیکن ضروری نہیں کہ یہ رویہ جنریشن زی کی گہری سوچ کا نتیجہ ہو، اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہیں کہ لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں کے پاس زیادہ کرنے کو کچھ تھا نہیں۔ تاہم دنیا بھر میں نئی نسل سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے پاس اپنے آپ کو سمجھنے کے لیے بیشتر وسائل ہیں۔ ان میں ٹک ٹاک جیسی سوشل میڈیا ایپس بھی ہیں جن پر تھیریپسٹ ایک دوسرے سے تعلقات کے طریقہ کار اور صحتمند رشتوں کے بارے میں معلومات دینا عام ہیں۔
لی کہتی ہیں کہ ان کی چھوٹی بہنیں، جو کہ کالج کے فرسٹ اور سیکنڈ ائیر میں ہیں، ٹک ٹاک کے ذریعے رشتوں کی ایک زبان بنا چکی ہیں۔ وہ کہتی ہیں ’ٹین ایجر اب اپنے اٹیچمنٹ سٹائل، اپنے رومینٹک اور سیکشوئل پارٹنر کے بارے میں بات کرتے ہیں، مثال کے طور پر وہ کہتے ہیں 'میں اینشیئس اٹیچمنٹ سٹائل' ہوں۔ یہ پرانے ڈیٹنگ سٹائل سے مختلف ہے، اس میں اپنے آپ کو ذہن میں رکھتے ہوئے وہ شخص چنتے ہیں جس کی آپ کو سمجھ آئے، بجائے اس کے کہ آپ کو کوئی صرف ظاہری طور پر اچھا یا دلچسپ لگ رہا ہو۔‘
حالانکہ یہ سوچ صرف جنریشن زی تک محدود نہیں لیکن ان کے پاس پچھلی نسلوں کی نسبت اپنا ساتھی ڈھونڈنے کے لیے بہت زیادہ وسائل اور معلومات موجود ہیں۔ ان میں کچھ ایسے طریقہ کار بھی ہیں جن کا پچھلی نسلوں میں گمان بھی نہیں تھا۔
سیکشویلیٹی اینڈ جینڈر یعنی کہ جنس اور صنف کے موضوع پر بدلتی سوچ اور رویے بھی اس تبدیلی کی ایک وجہ ہے۔ جنریشن زی میں کسی ایک صنف کے ذریعے پہچان کے رویے میں کمی آئی ہے۔ کوپربرگ کہتی ہیں کہ ’لوگ اپنی سیکشویلیٹی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔‘
ان کی تحقیق میں شامل اعداد و شمار، جو کہ بی بی سی نے دیکھے، کے مطابق 50 فیصد جنریشن زی کے لوگ خود کو ہیٹروسیکشوئل جبکہ بہت سے لوگ خود کو ہیٹرو فلیکسیبل بھی کہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
مختلف قسم کے جنسی پارٹنرز اور رشتوں کی طرف کھلے رجہان جنریشن زی کے بارے میں آربٹ کے مشاہدے کی یاد دہانی کرواتے ہیں۔ جس میں انھوں نے یہ بتایا ہے کہ جنریشن زی (نئی نسل) 'ون اینڈ اونلی' کی تلاش میں نہیں ہیں۔ وہ مختلف لوگوں کی تلاش میں ہیں جو کہ ان کی مختلف ضرورتیں پوری کر سکیں۔ یہ ضرورتیں رومینٹک، سیکشوئل یا پھر کچھ اور ہوسکتی ہیں۔
’ہمارے ماں باپ لوگوں میں مذہب یا پھر یکساں سیاسی نظریے کی تلاش کرتے تھے۔ لیکن یہ نسل ایمانداری اور محبت کی تلاش میں ہے۔ کسی ایسے شخص کی تلاش میں جس کے ساتھ صبح اٹھ کر آپ کو خوشی ہو۔ اس کے برعکس اگر آپ پچھلی نسلوں کی بات کریں تو وہ مختلف لوگوں کے ساتھ ڈیٹ کرنے اور انھیں موقع دینے کے لیے راضی ہیں۔‘
تبدیلی کی ہوا
رشتوں کے بارے میں یہ نقتہ نظر پچھلی نسلوں سے بہت زیادہ مختلف ہے۔
کونٹز کہتی ہیں کہ وہ جب ’1960 میں خاندان اور خواتین کے موضوع پر مبنی اپنی کتاب کے حوالے سے لوگوں کا انٹرویو کر رہی تھیں تو انھوں نے ایک خاتون سے سوال کیا کہ انھوں نے شادی کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ تو خاتون نے حیران ہو کر جواب دیا کہ ‘شادی کا وقت ہو گیا تھا۔‘
کونز کہتی ہیں ’ماضی میں ایک نقطہ نظر تھا کہ آپ کو بالغ زندگی میں قدم رکھنے کے لیے شادی کرنا پڑتی ہے۔ اب اس کا الٹ ہے۔‘
لیکن نئی نسل اس سوچ کی قائل نہیں۔ ماضی میں بالغ زندگی میں قدم رکھنے کے لیے شادی ایک راستہ تھا لیکن آج کل کے دور میں یہ شادی کے بغیر ہی ہو جاتا ہے۔ معاشرہ کو اس جانب جاتے ہوئے بھی وقت گزر چکا ہے اور ہر نسل کی روایتی خاندان کے بارے میں سوچ اور اس کی اہمیت تبدیل ہو رہی ہے۔ اس نظریے کو جنریشن زی ڈھال رہی ہے یا پھر معاشرہ، اس کا فیصلہ کرنا مشکل ہے۔
لیکن ایسا ہر ایک انسان نہیں کر رہا۔ کالج سٹوڈنٹس میں جنریشن زی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی نسل، ذات، جنس اور مذہب اس بات پر اثر انداز ہوتا ہے کہ وہ کیسے ڈیٹ کرتے ہیں اور کس طرح کے رشتے ڈھونڈتے ہیں۔
کونٹز کہتی ہیں ’سفید فام لوگوں کے جنسی تعلقات بنانے کے امکانات زیادہ ہیں۔ اس کے برعکس دیگر نسلوں کے لوگوں کا رشتے اور فارمل ڈیٹس کی طرف زیادہ رجحان ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ معاشی طور پر مستحکم گھرانوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے عارضی جنسی تعلقات اور مستحکم رشتے قائم کرنے کے مواقع زیادہ ہیں۔ دیرپا یا مستحکم رشتے قائم کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کہ پاس وسائل زیادہ ہیں۔
ملینیئلز کی طرح جنریشن زی کے دیر سے شادی کرنے کی وجوہات حقیقت پسندانہ رویے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ملینیئلز کے دیر سے شادی کرنے کی ایک وجہ طلاق سے ڈر ہے کیونکہ زیادہ تر ملینیئلز کے ماں باپ طلاق یافتہ ہیں۔ اس کے علاوہ معاشی طور پر شادی نہ کرنے کی قوت بھی ایک وجہ ہے۔
لیکن جنریشن زی کو اس سے بھی زیادہ غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔ ملینیئلز کو جہاں ماحولیاتی تبدیلی جیسے مسائل کا سامنا تھا، جنریشن زی کے لیے یہ مسئلہ اور سنگین ہوگیا ہے جبکہ ساتھ ہی کووڈ کی شکل میں نئی مصیبتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ایسے میں پچھلی نسلوں کے برعکس، جنریشن زی کی ترجیچ خود مختاری اور استحکام ہے۔