43 سال بعد انگلینڈ میں فتح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی افریقہ نے ایجبسٹن میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ میچ میں کامیابی حاصل کر کے انیس سو پینسٹھ کے بعد پہلی مرتبہ انگلینڈ کے خلاف انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز جیت لی ہے۔ جنوبی افریقہ کو تینتالیس سال بعد انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز میں کامیابی کپتان گراہم سمتھ کی ناقابل شکست اننگز کی بدولت ملی جنہوں نے ایک مشکل وقت میں ایک سو چوّن رنز بنائے۔ جنوبی افریقہ نے چار ٹیسٹ میچوں کی اس سیریز میں دو ٹیسٹ میچ جیت کر دو صفر سے برتری حاصل کر لی ہے جبکہ ایک ٹیسٹ میچ ابھی کھیلا جانا باقی ہے۔ کھیل کے چوتھے روز انگلش ٹیم نے دو سو ستانوے رنز چھ کھلاڑی آؤٹ پر اننگز شروع کی لیکن وہ مجموعی طور پر تین سو تریسٹھ رنز ہی بنا پائی۔ اس طرح جنوبی افریقہ کو میچ جیتنے کے لیے دو سو اکیاسی رنز کا ہدف ملا۔ جنوبی افریقہ کے افتتاحی بلے بازوں نے بڑے اعتماد سے کھیلنا شروع کیا اور بغیر کسی نقصان کے پینسٹھ رنز بنائے۔ لیکن اس کے بعد انگلینڈ کے بولروں اینڈریو فلنٹاف، مونٹی پنیسر اور جیمز اینڈرسن نے جنوبی افریقہ کے چار کھلاڑیوں کو آؤٹ کر دیا۔ اس طرح ترانوے کے مجموعی سکور پر جنوبی افریقہ کے چار کھلاڑی پویلین لوٹ گئے۔ تاہم اس کے بعدگراہم سمتھ اور مارک باؤچر نے نہایت اعتماد سے کھیلتے ہوئے جنوبی افریقہ کو انگلینڈ کے خلاف پانچ وکٹوں سے کامیابی دلوا دی۔ گراہم سمتھ نے ایک سو چون رنز بنائے اور آؤٹ نہیں ہوئے جبکہ دوسری طرف مارک باؤچر پینتالیس رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔ انگلینڈ کے کھلاڑیوں کی بدقسمتی رہی کہ گراہم سمتھ کی اننگز کے دوران دو متنازعہ فیصلے ان کے خلاف گئے اور ایک رن آؤٹ کا موقع انہوں نے ضائع کر دیا۔ اس موقع پر اگر گراہم سمتھ آؤٹ ہو جاتے تو جنوبی افریقہ کی ٹیم شاید اس نقصان کو برداشت نہ کر پاتی۔ لیکن ان کی شاندار اننگز نے انگلینڈ کو گزشتہ چار ٹیسٹ میچوں میں دوسری مرتبہ شکست سے دو چار کر دیا۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||