کرکٹ کی دنیا میں نام کی خواہش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حامد حسن پہلے افغان کرکٹر ہیں جو میریلیبون کرکٹ کلب کی جانب سے لندن کے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں اترے۔ یہ میچ ایم سی سی اور یورپین الیون کے مابین کھیلا گیا۔ میچ یورپین الیون نے دو وکٹوں سے جیت لیا۔ ایم سی سی نے پچاس اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر ایک سو تراسی رنز بنائے تھے جس کے جواب میں یورپین الیون نے سنتالیسویں اوور میں آٹھ وکٹوں کے نقصان ایک سو چوراسی کا ہدف پورا کرلیا۔ حامد کی بیٹنگ نہیں آئی البتہ ایم سی سی کے لیے بالنگ کراتے ہوئے انہوں نے دس اوورز میں تیئس رنز دے کر ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ ان کے دو اوورز میڈن رہے۔ جب انہیں اس ٹیم میں منتخب کیا گیا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ یہ ان کے دیرینہ خواب کی تکمیل ہے اور وہ اس لمحے کے شدت سے منتظر ہیں جب وہ مادر کرکٹ یعنی لارڈز کے میدان میں اتریں گے۔ کرکٹ مبصرین کا خیال ہے کہ افغانستان دو ہزار گیارے کے ورلڈکپ میں شرکت کا اہل ہو سکے گا اور ایم سی سی کی جانب سے حامد حسن کی نمائندگی اس جانب ایک قدم ہے۔ انگلینڈ کے سابق کپتان مائیک گیٹنگ کہتے ہیں کہ حامد میں ایک اچھا کھلاڑی بننے کی کافی صلاحیت ہے۔ حامد کا کہنا ہے کہ افغانستان آئرلینڈ اور برمودا کی طرح کرکٹ کے نقشے پر اپنا نام درج کروانے کے لیے کوشش کر رہا ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||