پاکستان ٹیبل ٹینس، عروج سے زوال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جب کسی کھیل کے ساتھ کھیل شروع ہوجائے تو اس کا حشر وہی ہوتا ہے جو پاکستان میں ٹیبل ٹینس کے ساتھ ہوا۔ ایک زمانہ تھا جب ٹیبل ٹینس اسکولوں سے لے کر قومی سطح تک ملک کے مقبول کھیلوں میں شمار ہوتا تھا لیکن پھر پاکستان ٹیبل ٹینس فیڈریشن کے کرتا دھرتاؤں کی عدم دلچسپی کے نتیجے میں یہ کھیل اسکول کالجز سے ختم اور قومی سطح پر برائے نام ہوکر رہ گیا۔ جہاں تک بین الاقوامی مقابلوں کا تعلق ہے توغیرملکی دوروں پر کھلاڑی کم اور آفیشلز زیادہ جانے لگے یہاں تک کہ کئی ایسے مقابلے گزرگئے جن میں پاکستان کی سرے سے نمائندگی ہی نہ ہوسکی۔ پاکستان ٹیبل ٹینس فیڈریشن کی پندرہ سال بعد دوبارہ باگ ڈور سنبھالنے والے ایس ایم سبطین کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیبل ٹینس کا بہت نقصان ہوچکا ہے۔ ہم بہت پیچھے چلے گئے ہیں لیکن وہ پرعزم ہیں کہ جلد ہی پاکستان علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی موجودگی کا دوبارہ احساس دلانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ اس سلسلے میں ان کے پاس طویل مدتی پروگرام کے ساتھ ساتھ فوری طور پر عملدرآمد کرنے والے منصوبے ہیں جن کے ذریعے وہ ملک میں اس کھیل کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں۔
ایس ایم سبطین کہتے ہیں کہ اس سال اگست میں ہونے والے سیف گیمز کے بعد سینئر کھلاڑیوں کے بجائے نوجوان کھلاڑیوں پر انحصار کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ پاکستان نمبر دو سلیم عباس کو اس بات کا دکھ ہے کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران بین الاقوامی مقابلے ہوئے نہ غیرملکی کوچ آئے یوں کئی قیمتی سال ضائع ہوگئے۔ انٹرنیشنل کھلاڑی کاشف رزاق بین الاقوامی مقابلوں سے زیادہ چین اور دیگر ممالک میں ہونے والے تربیتی کیمپس میں پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت کے حق میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ستر اور اسی کے عشروں میں شاندار نتائج اسی لیے سامنے آتے رہے کہ پاکستان ٹیببل فیڈریشن کے اس وقت کے کرتا دھرتا کھلاڑیوں کو غیرممالک میں ٹورنامنٹس کے ساتھ ساتھ کیمپس میں بھی بھیجتے رہے۔ خاتون کھلاڑی راحیلہ کاشف کے خیال میں مقابلے نہ ہونے کے نتیجے میں کھلاڑیوں کے معیار میں زمین آسمان کا فرق آگیا ہے۔ یہ فرق دور کرنے کے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ ملک میں بڑی تعداد میں ٹورنامنٹس منعقد کرائے جائیں اور نوجوان کھلاڑیوں کو تجربے کے لیے ملک سے باہر بھیجا جائے۔ پاکستان ٹیبل ٹینس فیڈریشن میں رونما ہونے والی تبدیلی کو خوش آئند کہا جارہا ہے کیونکہ نئی قیادت ملک میں اس کھیل کو دوبارہ زندہ کرنے کے سلسلے میں سرگرم اور سنجیدہ نظر آتی ہے جس کا عملی مظاہرہ اس نے سینئر ٹیم کو کامن ویلتھ گیمز اور جونیئر ٹیموں کو الجزائر اور سعودی عرب کے ٹورنامنٹس میں بھیج کر دکھایا ہے لیکن جب تک ٹیبل ٹینس گیند کی مانوس آواز اسکولوں سے لے کر قومی سطح پر دوبارہ کانوں سے نہیں ٹکرائے گی مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آسکیں گے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||