امریکہ کرکٹ کے لیئے بے تاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی کرکٹ ایسوسی ایشن کے سربراہ کا کہنا ہے کہ انڈین کرکٹ ٹیم کے ایک روزہ بین الاقوامی مقابلے امریکہ میں منعقد کرانے سے وہاں کرکٹ کے فروغ میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ انڈین کرکٹ بورڈ نے حال ہی میں بارہ کروڑ پچاس لاکھ ڈالر میں بیرونی ممالک میں انڈین ٹیم کے میچوں کے نشریاتی حقوق فروخت کردیئے ہیں۔ امریکہ میں جہاں بڑی تعداد میں انڈیا سے تعلق رکھنے والے تارکیں وطن آباد ہیں اور اسے کرکٹ کی ایک بڑی مارکیٹ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ امریکی کرکٹ ایسوسی ایشن کے سربراہ چیف گلیڈ اسٹون کا کہنا ہے کہ امریکہ میں کرکٹ کے شائقین کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو بین الاقوامی سطح کی کرکٹ دیکھنے کے لیئے بے تاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پورے یقین کے ساتھ یہ بات کر سکتے ہیں کہ کرکٹ سے نوجوان نسل کو روشناس کرانے کے لیئے اس سطح کی کرکٹ کا انعقاد کرانا بہت ضروری ہے۔ برطانیہ میں سن دو ہزار تین میں ہونے والی چیمپئن ٹرافی میں امریکی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد سے امریکہ میں کرکٹ کا کھیل مشکلات کا شکار ہے۔
گزشتہ سال بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے ’پراجیکٹ یو ایس اے‘ معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کی بنیادی وجہ امریکی کرکٹ ایسوسی ایشن میں پائی جانے والی بدانتظامی ہے ۔ آئی سی سی کی ایک خفیہ دستاویز میں یہ کہا گیا تھا کہ کسی ملک میں جہاں کرکٹ کے لیئے اتنا ساز گار ماحول پایا جاتا ہو وہاں کرکٹ ایسوسی ایشن میں اتنی بد انتظامی پائی جاتی ہو۔ امریکہ پر آئی سی سی نے بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی تھی کیونکہ امریکہ کرکٹ ایسوسی ایشن پر قبضہ کرنے کے لیے دو گروپ میں جاری کشمکش کی وجہ سے وہ بین الاقوامی مقابلوں میں ایک ٹیم بنانے پر اتفاق نہیں کر سکے تھے۔ تاہم حال ہی میں صورت حال بہتر ہوئی ہے اور گزشتہ ماہ ہی آئی سی سی امریکہ ایسوسی ایشن کو اس شرط پر تسلیم کرنےپر تیار ہو گئی ہے کہ وہ اکتوبر کے آخر تک بورڈ کے آزادانہ انتخاب کرا لیں۔ آئی سی سی کو انڈیا کی اس تجویز کے بارے میں تحفظات ہیں کہ وہ اپنے مستقبل کے دوروں میں بین الاقوامی سطح کے میچز کا انعقاد کرائے۔ لیکن اس سے امریکی کرکٹ ایسوسی ایشن کی انڈین کرکٹ ٹیم کوامریکہ میں میچز کھیلنے پر راضی کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے۔ امریکہ میں نیو یارک، جنوبی فلوریڈا، ٹکساس کے کچھ علاقے اور شکاگو کرکٹ کے میچوں کے لیے بہت ساز گار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈیا کے پاکستان ، ویسٹ انڈیز، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے خلاف میچ لوگوں کے دلچسپی کا باعث ہو سکتے ہیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||