مائیکل وان ، عروج کی داستان رقم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایشیز کی حالیہ کامیابی کو مائیکل وان کی قیادت کا عروج کہا جاسکتا ہے۔ اس جیت نے انہیں بجا طور پر انگلینڈ کی اسپورٹس تاریخ میں نمایاں مقام پر فائز کردیا ہے۔ جب ایشیز شروع ہوئی تھی تو سب کا یہی خیال تھا کہ اس مرتبہ انگلینڈ کے پاس آسٹریلوی غرور توڑنے کا اچھا موقع ہے۔ انگلینڈ نے اپنے کھلاڑیوں کے شاندار کھیل کے نتیجے میں اس موقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور جب ایشیز ختم ہوئی تو انگلینڈ کی فتح کا جشن ٹریفالگر اسکوائر پر جوش وخروش سے منایا جارہا تھا۔ مائیکل وان دوسال قبل ناصرحسین کی جگہ کپتان بنائے گئے تھے اور آج ان کی قیادت میں انگلینڈ کی ٹیم فتوحات کے طویل سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے دنیا کی نمبر ایک ٹیم کے اعزاز سے زیادہ دور نہیں رہی۔ اور اگر وہ پاکستان اور بھارت کو انہی کے دیس میں ہرا دے تو وہ آسٹریلیا کی جگہ عالمی رینکنگ میں پہلے نمبر پر آجائے گی۔ مائیکل وان میدان میں اپنے حریف کپتان کی غلطیوں اور اپنے کھلاڑیوں کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے فن سے بحوبی آشنا ہیں۔ ان کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں ٹریسکوتھک، اسٹراس، پیٹرسن، ہارمیسن، جونز اور سب سے بڑھ کر عصرحاضر کے بوتھم کے رو پ میں اینڈریو فلنٹوف کی خدمات حاصل ہیں۔ بحیثیت بیٹسمین مائیکل وان ابتدائی دنوں کے اتار چڑھاؤ کے بعد قابل اعتماد بیٹسمین کے روپ میں انگلینڈ کی بیٹنگ لائن کو تقویت دینے میں کامیاب رہے ہیں۔ دو سو دو میں سری لنکا اور بھارت کے خلاف سات اننگز میں انہوں نے تقریبا نوسو رنز بناڈالے۔ رنز کی یہ برسات آسٹریلیا کے دورے میں بھی جاری رہی جہاں انہوں نے ٹیسٹ سیریز میں چھ سو سے زائد رنز اسکور کیے جو بتیس سال کے طویل عرصے میں کسی بھی غیرملکی بیٹسمین کی آسٹریلیا میں سب سے بہترین کارکردگی تھی۔ مائیکل وان وہ واحد کرکٹر ہیں جن کی تصویر وزڈن المانیک نے اپنے سرورق پر شائع کرکے اپن طویل روایت کو بدل ڈالا۔ ٹیسٹ کرکٹ کے مقابلے میں ون ڈے میں مائیکل وان کی کارکردگی زیادہ اچھی نہیں ہے اور وہ ٹیسٹ کی پندرہ سنچریوں کے برخلاف کوئی بھی سنچری نہیں بناسکے ہیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||