یونس خان، فائٹنگ اسپرٹ سے سرشار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یونس خان کی بیٹنگ انضمام الحق یا یوسف یوحنا کی طرح یقیناً دلکش نہ سہی لیکن مستقل مزاج کارکردگی نے انہیں پاکستانی بیٹنگ لائن میں اہم جگہ دے رکھی ہے۔ نائب کپتان بننے کے بعد وہ فیلڈ میں پہلے سے زیادہ متحرک دکھائی دیتے ہیں۔ یونس خان نے اپنے کریئر کی ابتدا سری لنکا کے خلاف اولین ٹیسٹ میں سنچری سے کی تھی لیکن اس کے بعد اچھی کارکردگی کے باوجود وہ ٹیم میں آتے اور جاتے رہے۔ اس دوران ان پر کپتانوں اور کوچز حضرات نے کبھی نچلے نمبر پر کبھی ون ڈاؤن کبھی اوپنر تو کبھی وکٹ کیپر کی اضافی ذمہ داری کی شکل میں تجربات بھی کئے مگر یونس خان کے حوصلے ہمیشہ بلند رہے ہیں۔ سری لنکا کے خلاف کراچی ٹیسٹ میں سنچری بناکر ٹیم میں واپس آئے۔ آسٹریلیا میں چند ایک اچھی اننگز کے بعد بھارت کے دورے میں جب وہ نائب کپتان بنائے گئے تو یہ کہا گیا کہ نائب کپتانی کے باوجود ٹیم میں ان کی مستقل جگہ نہیں ہے۔ ستم بالائے ستم موہالی ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں ناکامی کے ساتھ ساتھ فیلڈنگ میں غیرمتوقع طور پر کیچز ڈراپ ہونے سے یونس خان زبردست دباؤ کا شکار ہوگئے تھے۔ کولکتہ ٹیسٹ میں انہوں نے پہلی اننگز میں سنچری بنائی لیکن دوسری اننگز میں صفر پر آؤٹ ہونے سے وہ ایک بار پھر مشکل میں گرفتار ہوگئے۔ بنگلور ٹیسٹ میں یونس خان کی شاندار ڈبل سنچری نے پاکستان کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں یونس خان کو انضمام الحق کی غیرموجودگی میں قیادت کا موقع ملا لیکن وہ اسے اپنے اور ٹیم کے لئے یادگار نہ بناسکے لیکن اگلے ٹیسٹ میں انضمام الحق کے واپس آتے ہی قیادت کے پریشر سے آزاد ہوکر انہوں نے ایک بار پھر سنچری داغ دی یہ ٹیسٹ پاکستان نے جیت کر سیریز برابر کردی۔ یونس خان ایک مستعد فیلڈر بھی ہیں سلپ کے علاوہ وہ آؤٹ فیلڈ میں بھی بیٹسمینوں کی غلطی کا فائدہ اٹھانے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||