محمد سمیع، بڑی کامیابی کا انتظار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چار سال قبل نیوزی لینڈ کے خلاف آ کلینڈ میں اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلتے ہوئے محمد سمیع نے آٹھ وکٹیں حاصل کیں تو پاکستانی کرکٹ کے مستقبل کے تناظر میں اسے خوش آئند قرار دیا گیا۔ آج پاکستانی پیس اٹیک میں انہیں نمایاں حیثیت حاصل ہے لیکن فٹنس مسائل اور کارکردگی میں غیرمستقل مزاحی کے فقدان کے سبب وہ بھی ابھی تک اپنے لئے بلند مقام کے منتظر ہیں۔ محمد سمیع نے اکیس ٹیسٹ میں پاکستان کی نمائندگی کی ہے جن میں ان کی حاصل کردہ وکٹوں کی تعداد چھپن ہے صرف دو مرتبہ وہ اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔ اس کارکردگی کو کسی طور بھی قابل ذکر نہیں کہا جاسکتا۔ محمد سمیع کے فٹنس مسائل ان کی پہلی ٹیسٹ سیریز میں ہی سامنے آگئے تھے جس کے بعد انگلینڈ کے اہم دورے میں وہ دونوں ٹیسٹ سے باہر ہوگئے۔ اس دوران وہ کھیلتے رہے لیکن کسی غیرمعمولی کارکردگی کے بغیر۔ بھارت کے خلاف ہوم سیریز میں محمد سمیع کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی اور وہ تین ٹیسٹ میچوں میں صرف سات وکٹیں حاصل کرسکے۔ آُسٹریلیا کے دورے میں بھی وہ دو ٹیسٹ ہی کھیل سکے البتہ بھارت کے دورے میں وہ بہت زیادہ کامیاب نہ سہی لیکن بہتر بولنگ سے اعتماد بحال کرنے میں ضرور کامیاب رہے لیکن ایڑی کی تکلیف نے انہیں ویسٹ انڈیز کے دورے سے باہر کردیا۔ آسٹریلیا اے کے خلاف عمدہ بولنگ سے محمد سمیع کا حوصلہ بڑھا ہے لیکن شعیب اختر، عمرگل اور شبیراحمد کی موجودگی میں محمد سمیع کے لئے ٹیم میں مستقل جگہ بنانا کسی چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||