رانا نوید الحسن، خاموش ہیرو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کو پچھلے کچھ عرصے کے دوران اپنے چار فرنٹ لائن بولرز شعیب اختر، شبیراحمد، محمد سمیع اور عمر گل کے فٹنس سے دوچار ہونے کے بعد بہت مشکل صورتحال سے دوچار ہونا پڑا ہے ایسے میں رانا نوید الحسن کی بولنگ ٹیم کے لئے سہارا بنی ہے۔ رانا نویدالحسن پہلی مرتبہ2001 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے میچوں کے لئے منتخب ہوئے تھے لیکن نوگیارہ کے واقعے کے نتیجے میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کا دورہ منسوخ کردینا پڑا تھا۔ ایک سال بعد رانا نویدالحسن نیوٹرل گراؤنڈز پر آُسٹریلیا سے ٹیسٹ سیریز کھیلنے والی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے تاہم انہیں کھیلنے کا موقع نہیں مل سکا۔ رانا نوید الحسن نے ون ڈے کرکٹ کی ابتدا2003 کے شارجہ ٹورنامنٹ میں کی اور اب وہ پاکستان کے ون ڈے اسکواڈ کا لازمی حصہ ہیں۔اکتیس ون ڈے میچوں میں وہ پچپن وکٹیں حاصل کرچکے ہیں اور متعدد مواقعوں پر ان کی موثر بولنگ پاکستان کی جیت کا سبب بنی ہے۔ شعیب اختر جیسی شہرت نہ ہونے کے باوجود وہ بجا طور پر خاموش ہیرو کی حیثیت سے اپنا کردار بخوبی نبھارہے ہیں۔ رانا کو اس سال پہلی مرتبہ کاؤنٹی کرکٹ میں سسیکس کاؤنٹی کی نمائندگی کا موقع ملا جس کا انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے54 وکٹیں حاصل کیں اور اب وہ انگلینڈ کے خلاف اپنے جوہر دکھانے کےلئے تیار ہیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||