مشتاق احمد، گئے دنوں کی تلاش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ انگریز بیٹسمین ہر دور میں لیگ اسپن کو کھیلنے میں مشکلات سے دوچار ہوتے رہے ہیں۔ پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی انگلینڈ کی ٹیم کے لئے بھی لیگ اسپن کو بڑا خطرہ سمجھا جارہا ہے اور اسے اسپن کے جال میں جکڑنے کی حکمت عملی بنائی جارہی ہے۔ پاکستان کے پاس اسوقت دانش کنیریا کی شکل میں میچ ونر لیگ اسپنر موجود ہے لیکن پاکستانی کپتان اور کوچ کا خیال ہے کہ انگلینڈ کے بیٹسمینوں کی پریشانیوں میں اضافے کے لئے مشتاق احمد کے تجربے سے فائدہ اٹھانے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ مشتاق احمد نے52 ٹیسٹ میں185 وکٹیں حاصل کی ہیں جو عبدالقادر کے بعد کسی بھی پاکستانی لیگ اسپنر کی سب سے اچھی کارکردگی ہے۔ کسی زمانے میں وہ شین وارن اور انیل کمبلے کے ہم پلہ سمجھنے جاتے تھے۔ ان کے کریئر میں ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہوں نے غیرمعمولی پرفارمنس کے ذریعے کافی وکٹیں سمیٹیں لیکن بھر مختلف عوامل کے سببب جن میں فٹنس مسائل کے ساتھ ساتھ میچ فکسنگ اسکینڈل قابل ذکر ہے، مشتاق احمد ٹیم میں جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ پاکستانی ٹیم سے باہر ہونے کے بعد مشتاق احمد کی توجہ کاؤنٹی کرکٹ پر مرکوز رہی ہے جس میں انہوں نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کیا ہے۔ دو سال قبل جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیم میں ان کی واپسی کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ وہ کاؤنٹی کرکٹ سیزن میں سو سے زائد وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے لیکن جنوبی افریقہ کے خلاف وہ خاطرخواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔ اب ایک مرتبہ پھر کاؤنٹی کرکٹ کی شاندار کارکردگی کے نتیجے میں وہ انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لئے دانش کنیریا کے پارٹنر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ لیگ اسپن اور گگلی کے ذریعے وہ 1996ء جیسی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے یا نہیں۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||