بھارتی کھلاڑی ڈوپ ٹیسٹ میں ناکام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فن لینڈ کے دارالحکومت ہیلسنکی میں جاری بین الاقوامی ایتھلیٹکس مقابلوں میں ممنوعہ ادویہ کے استعمال کا پہلا معاملہ سامنے آ گیا ہے۔ بھارت سے تعلق رکھنے والی کھلاڑی نیلم جسونت سنگھ وہ پہلی کھلاڑی ہیں جن کا نمونہ مثبت نکلا ہے۔ نیلم سنگھ ڈسکس تھرو کی کھلاڑی ہیں اور ان کے پیشاب کے نمونے میں ممنوعہ دوا پیمولین کے اثرات پائے گئے۔ ڈوپ ٹیسٹ مثبت نکلنے کے بعد انہیں دو برس کی پابندی کا سامنا ہے اور فی الحال انہیں مقابلوں سے اس وقت تک معطل کر دیا گیا ہے جب تک بھارتی اولمپک فیڈریشن اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہے۔ نیلم سنگھ نے ان مقابلوں میں پچاس اعشاریہ سات میٹر تک ڈسک پھینکی تھی تاہم وہ فائنل مقابلوں میں شرکت کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکی تھیں۔ بین الاقوامی ایتھلیٹک فیڈریشن مقابلوں کے آغاز سے اب تک 689 نمونوں کا جائزہ لے چکی ہے اور اس میں سے یہ پہلا نمونہ ہے جس میں ممنوعہ دوا کے اثرات ملے ہیں۔ فیڈریشن نے ان مقابلوں کے آغاز سے قبل کہا تھا کہ وہ چودہ اگست کو ان مقابلوں کی اختتامی تقریب سے قبل تمام 850 نمونوں کا جائزہ مکمل کر لے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||