آخر ایشز ہے کیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان ایشز سیریز کا آغاز ہونے والا ہے اور لارڈز پر پانچ میچوں کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ جمعرات سے شروع ہو رہا ہے۔ ان دونوں ممالک کے درمیان سیریز جیتنے والے کو ’ایشز‘ ٹرافی دی جاتی ہے۔ اکثر یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر ایشز ہے کیا؟۔ اصل میں یہ پانچ انچ کی ایک گلدان نما ٹرافی ہے جس میں کرکٹ کی گیند یا وکٹوں پر رکھی جانے والی ’بیلز‘ کی راکھ ہے۔ لیکن یہ ابھی طے نہیں ہو سکا ہے کہ آیا یہ راکھ گیند کی ہے یا’بیلز‘ کی۔ اس کی تاریخ کافی دلچسپ ہے اور اس پر کافی تنازعہ بھی ہے۔ یوں تو کرکٹ کی تاریخ میں پہلا ٹیسٹ 1877 میں آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کے درمیان کھیلا گیا تھا لیکن ایشز سیریز کا آغاز 83۔1882 کی تین میچوں کی سیریز سے آسٹریلیا میں شروع ہوا۔ انگلینڈ نے یہ ٹرافی آسٹریلیا سے ایک کے مقابلے میں دو ٹیسٹ جیت کر حاصل کر لی تھی۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب آسٹریلیا نے اپنے 1882 کے دورے میں اوول کے میدان میں انگلینڈ کو سات وکٹ سے شکست دی تو لندن کے اخبار ’ دی سپورٹنگ ٹائمز‘ نے انگلینڈ کی ہار کی تعزیت میں انگلینڈ کرکٹ کی موت کی خبر چھاپتے ہوئے لکھا کہ اس ہار کے جنازے کی راکھ کو اب آسٹریلیا لے جایا جائے گا۔ اور جب انگلینڈ نے83-1882 میں سڈنی میں 69 رن سے تیسرا ٹیسٹ جیتا تو ملبورن کی چند عورتوں نے انگلینڈ کے کپتان آئیوو بلائی کو ایک گلدان میں راکھ رکھ کر پیش کی۔ انگلینڈ کے کپتان نے بعد میں ان میں سے ایک آسٹریلوی خاتون سے شادی بھی کر لی۔ کچھ عرصے بعد آئیوو بلائی لارڈ ڈارنلی بن گئے۔ 1998 میں ان کی 82 سالہ بہو نے یہ انکشاف کیا کہ اس گلدان میں ان کی ساس یعنی آئیوو بلائی کی بیوی کے چہرے کے نقاب کی راکھ ہے نہ کہ گیند یا بیلز کی۔ 1927 میں آئیوو بلائی کے انتقال کے بعد ایشز ٹرافی انگلینڈ کے کپتان کی آسٹریلین بیوی نے ایم سی سی کو دے دی جو آج تک لارڈز میں ایم سی سی کے میوزیم میں موجود ہے۔ یاد رہے کہ ایشز جیتنے والے کو اصلی ٹرافی نہیں دی جاتی بلکہ اس کے نقل دی جاتی ہے۔ اصلی ٹرافی محض پانچ انچ کی ہے اور سیریز جیتنے والی ٹیم کو بڑی ٹرافی کے ہمراہ اصل ٹرافی کے سائز کی ایک نقلی ٹرافی بھی دی جاتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||