’ہندوستان کے سیکولر مزاج کا امتحان‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی ٹیم احمدآباد میں صرف تیس گھنٹے گزارے گی لیکن اس کے مختصر قیام کے دوران ہندوستانی کرکٹ کے مستقبل اور ملک کے سیکولر مزاج، دونوں ہی کی آزمائش ہوگی۔ اگر احمدآباد کے موٹیرا گراؤنڈ پر سوروگانگولی ایک مرتبہ پھر ناکام ہوجاتے ہیں تو کپتانی پر اپنی کمزور پڑتی ہوئی گرفت قائم رکھنا انکے لئے اور بھی مشکل ہو جائےگا۔ گانگولی کی ناکامی ان کے لئے ایک ذاتی ٹریجیڈی ہوگی لیکن اگر پاکستان کی جیت کی صورت میں شہر میں بد امنی پیدا ہوتی ہے تو انسانی جانوں کا وہ ضیاع دوبارہ دیکھنے کو مل سکتا ہے جس نے تین سال پہلے اس مغربی ریاست کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اور اگر پاکستانی ٹیم پر کسی قسم کی آنچ آتی ہے، تو دونوں ملکوں کے درمیان جاری کاروانِ امن پر پر پڑ سکنے والے مضر اثرات بیان سے باہرہیں۔ مقامی انتظامیہ کو اس بات کا احساس ہے اور پولیس ٹیموں کو سکیورٹی فراہم کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑ رہی۔ میدان میں صرف وہ لوگ داخل ہوسکیں گےجن کے پاس شناختی کارڈ ہوں گے، اور آس پاس کے علاقوں میں حکم امتناعی نافذ کردیا گیا ہے۔ پولیس شبہے کی بنیاد پر کسی کو بھی گرفتار کر سکے گی۔ لیکن میرے خیال میں ٹیموں کی سلامتی کو کوئی خاص خطرہ نہیں ہے۔ مجھے احمدآباد میں امن و امان کی زیادہ فکر ہے۔ جو لوگ ہندوستان اور پاکستان کے مزاج کو جانتے ہیں، انہیں احساس ہوگا کہ یہاں مذہبی فسادات بھڑکنے میں کتنی دیر لگتی ہے، اور ان کوکنٹرول کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔ اور کرکٹ کیسا جنون پیدا کرسکتا ہے اس کا بھی سب کو علم ہے۔ اگر ہندوستان جیتا تو جم کر ہندو علاقوں میں آتش بازی ہوگی اور اگر پاکستان جیتا تو مسلمانوں کی اکثریت والے کالو پور اور خانپور جیسے علاقوں میں لوگوں کے لئے خاموش بیٹھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
مجھے یاد ہے کہ جب انیس سو ستاسی میں میرٹھ میں خونریز مذہبی فسادات ہوئے، تو مسلم نوجوانوں کو پکڑ کر پولیس والے ’عمران خان کے چھکوں کا مزا چکھایا کرتے تھے۔‘ گجرات میں تو ابھی لوگوں کے زخم بھی نہیں بھرے ہیں۔اس لئے مجھے شبہہ ہے کہ شاید وہ پاکستان کی کامیابی کی دعا کریں گے۔ اس لئے کہ بہت سے لوگ خیال کے حامل ہیں کہ ان کے ساتھ جو زیادتی ہوئی اس کا نہ تو وہ خود مقابلہ کر پائے اور نہ حکومت سے ہی انہیں انصاف ملا۔ لہذا وہ کرکٹ میں ہندوستان کی شکست سے ہی خوش ہو جائیں گے اور شاید کھلے عام اس کا مظاہرہ بھی کریں۔ اور اگر ہندوستان جیتا، تو شاید ہندو اکثریت کے لئے خاموشی سے جشن منانا ممکن نہ ہوگا۔ شہر آتش بازی کے دھماکوں سے گونجے گا، اور اگر ایسا ہوا تو ایک ذرا سی چنگاری سے آگ لگ سکتی ہے۔ اگر ریاست میں نریندر مودی کی حکومت بدل گئی ہوتی، ایک نئی سرکار ہوتی تو شاید حالات مختلف ہوتے۔ اب تک میری جتنے بھی لوگوں سے بات ہوئی ہے، سب کا یہی کہنا ہے کہ مودی کو پارٹی میں بغاوت کے باوجود وزیر اعلیٰ کے عہدے پر برقرار رکھ کر بی جے پی اپنے ہی رہنماؤں اور مداحوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ ہندوتوا کے نظریے کا دفاع کرنے والوں کا ساتھ نہیں چھوڑا جائے گا۔ مقامی مسلمانوں کے لئے یہ بات جلے پر نمک چھڑکنے کے برابر ہے۔ گجرات ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا ہے۔ اور میرے خیال میں پاکستانی ٹیم کو یہاں بلاکر کھلانا کوئی بہت سمجھداری کی بات نہیں تھی۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ بھی نہ ہو اور یہ تیس گھنٹے امن سے گزر جائیں، لیکن اگر کچھ ہو گیا تو یہ اتنی بڑی قیمت ہوگی جو کسی کھیل کے لئے ادا نہیں کی جاسکتی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||