ٹور دی فرانس کے سوسال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنیچر کے روز سے پیرس میں سائیکل ریس ’ٹور دی فرانس‘ تاریخی مقام ایفل ٹاور سے شروع ہوئی جس میں تقریباً دو ہزار سائیکل سوار شریک ہوئے۔ یہ ایک سوویں ریس ہے۔ یہ لوگ تین ہفتے کے دوران فرانس کے گرد تقریباً تین ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کریں گے۔ اس ریس میں لوگوں کی نظریں امریکہ کے لانس آمسٹرانگ پر ہونگی۔ سائیکل ریس ٹور دی فرانس سو سال قبل شروع ہوا تھا۔ لیکن پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران یہ مقابلہ نہیں ہوسکا۔ سنیچر کے روز سے شروع ہونے والی یہ ریس ٹور دی فرانس کی 90 ویں ریس ہے۔ لانس آمسٹرانگ انیس سو ننانوے میں کینسر جیسے موذی مرض سے صحتیاب ہوئے تھے اور جب سے وہ مسلسل اس ریس میں کامیابی حاصل کرتے چلے آرہے ہیں۔ اگر آرمسٹرانگ اس سال بھی یہ ریس جیت جاتے ہیں تو وہ دنیا کے پانچویں سائیکلسٹ ہونگے جو پانچ مرتبہ یہ اعزاز حاصل کریں گے۔ اس سے پہلے یہ اعزاز چار سائیکلسٹ کے حصے میں آچکا ہے۔ تین ہفتوں تک جاری رہنے والی اس ریس میں ایک سو اٹھانوے سائیکل سوار دو ہزار ایک سو میل تک کا فاصلہ طے کریں گے۔ لاکھوں کی تعداد میں تماشائیوں کی آمد متوقع ہے۔ چار مرتبہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے آرمسٹرانگ نے کہا کہ’یہ ریس ہمارے کھیل میں ایک مینار کی طرح ہے اور اس میں ہمیں بہت زیادہ محنت اور جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’میں پہلے جیسا نوجوان اور طاقتور نہیں رہا، اس کھیل میں اب بہت سے نوجوان اپنے عروج پر ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’میری خواہش ہے کہ میں جب مقابلے کہ لئے آؤں تو وہاں موجود ہر کوئی یہ کہے کہ یہ نہیں جیت سکتا۔ اس طرح زیادہ جوش و جذبہ کے ساتھ مقابلہ ہوتا ہے۔‘ آرمسٹرانگ کا کہنا ہے کہ میں حقیقت کی دنیا میں رہنے کا عادی ہوں مجھے پتہ ہے کہ اس مقابلے میں کوئی بھی اور کبھی بھی جیت سکتا ہے۔‘ ’ٹور دی فرانس‘ ریس پیرس میں ستائیس جولائی کو ختم ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||