بھارت نے نفسیاتی برتری کھو دی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کامران اکمل اور محمد رزاق نے جس انداز میں آخری اننگز میں بیٹنگ کی اس سے پاکستان کی ٹیم کو اس سیریز کے دوران بہت فائدہ ہو گا۔ عبدالرزاق اور کامران اکمل نے نہ صرف میچ بچایا بلکہ اپنے ساتھیوں کے لیے ایک ایسی مثال قائم کی ہے جو ان کو موجودہ سیریز میں بہت کام آئے گی۔ پاکستان کے کوچ باب وولمر نے آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں اپنے کھلاڑیوں کو آف سٹمپ سے باہر جاتی ہوئی گیندوں سے چھیڑ چھاڑ سے پرہیز کرنے کا سبق دینے کی کوشش کرتا رہا۔ عبدالرزاق اور کامران اکمل نے کوچ باب وولمر کی طرف سے سکھایا ہوا یہ گر کامیابی کے ساتھ موہالی ٹیسٹ کی آخری اننگز میں عمل میں لایا۔ پاکستان کی ٹیم ٹاس ہار کر ایک بڑے فائدے سے محروم ہو گئے تھی اور چار دن تک اس میچ میں دباؤ میں رہی۔ پاکستان نے تیز وکٹ پر پہلے کھیلتے ہوئے 312 رنز سکور کیے جو کسی لحاظ سے برا سکور نہیں تھا لیکن بھارت کی مضبوط بیٹنگ لائن نے پہلی اننگز میں بڑا سکور کر کے پاکستان پر دباؤ بڑھا دیاتھا۔ سچن تندولکر کے لیے یہ میچ بہت اہمیت کا حامل تھا۔ وہ اپنی کہنی میں تکلیف کے بعد پہلی دفعہ میچ کھیل رہے تھے اور اس میچ میں وہ عالمی ریکارڈ کے قریب پہنچ کر بھی اس کو حاصل نہ کر سکا حالانکہ دنیا میں سب سے زیادہ سینچریاں بنانے والا کھلاڑی بننے کے لیے اس کو صرف ایک بڑے شاٹ کی ضرورت تھی۔
پاکستان کے بیٹسمین انضمام الحق اور یوسف یوحنا نے اس میچ میں ثابت کیا کہ پاکستان ٹیم اتنے عرصے سے ان پر کیوں بھروسہ کرتی آ رہی ہے۔ یوسف یوحنا اور انضمام الحق نے دوسری اننگز میں دس رنز پر تین کھلاڑی آؤٹ ہونے کے بعد جس طرح پاکستان کی اننگز کو سنھبالا اور بھارت کی جارحانہ فیلڈنگ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تیز سکور کیا وہ قابل دید تھا۔عاصم کمال نے دونوں اننگز میں شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا۔ بھارت کے میڈیم فاسٹ بولروں پر مشتمل بولنگ سکواڈ نے گرین ٹاپ وکٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پہلی اننگز میں اچھی بولنگ کی۔ دوسری اننگز میں بھی جب وکٹ بیٹنگ کے سازگار ہو چکی تھی تب بھی بھارتی بولروں نے نپی تلی بولنگ کی۔ لکشمی پاتھی بالاجی کے لیے یہ میچ بہت ہی اہم تھا۔ لکشمی پاتھی بالا جی جو ان فٹ ہونے کی بعد کچھ میچوں میں نہیں کھیلے تھے اس میچ میں نو وکٹیں حاصل کر کے اپنی فٹنس ثابت کر دی۔ پاکستان کا چار بولروں کے ساتھ اس میچ میں کھیلنا کسی کی سمجھ میں نہیں آیا لیکن وہ دانش کنیریا کی شاندار بولنگ نے ان کو بچا لیا۔ اب کلکتہ میں سولہ مارچ کو دونوں ٹیمیں ایک بار پھر آمنے سامنے ہوں گیں۔ پاکستان اور بھارت نے کلکتہ کے ایڈن گارڈن گروانڈ پر پانچ میچ کھیلے ہیں لیکن بھارت کبھی بھی پاکستان کو ہرانے میں کامیاب نہیں ہوا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||