لارا شاید پاکستان نہ آئیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برائن لارا اور ویسٹ انڈیز کے چھ دیگر کھلاڑی سپانسرشپ کے تنازعے کی وجہ سے شاید پاکستان اور جنوبی افریقہ کے خلاف نہ کھیل سکیں۔ ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کے صدر ٹیڈی گرفتھ نے ویسٹ انڈیز کے ان سات کھلاڑیوں کو معاہدے پر دستخط کے لیے گیارہ مارچ تک کا وقت دیا ہے۔ ان کھلاڑیوں میں لارا کے علاوہ رام نریش ساروان، کرس گیل، فیڈیل ایڈورڈز، ڈوائن براوو، ڈوائن سمتھ، اور روی رامپال شامل ہیں۔ ان کھلاڑیوں کے کیبل اینڈ وائرلیس کمپنی سے سپانسرشپ معاہدے ہیں۔ یہ معاہدے کرکٹ بورڈ کے اپنے سپانسر ڈیجی سیل کے ساتھ معاہدے سے متصادم ہیں۔ کھلاڑیوں اور کرکٹ بورڈ کے پاس اس تنازعے کو نمٹانے کے لیے زیادہ وقت نہیں ہے کیونکہ جنوبی افریقہ کی ٹیم پچیس مارچ کو ویسٹ انڈیز پہنچ رہی ہے۔ کرکٹ بورڈ کے سبراہ کا کہنا ہے کہ بورڈ چند کھلاڑیوں کے ذاتی معاہدوں کی خاطر پورے ڈھانچے کو مشکل میں نہیں ڈال سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ان کھلاڑیوں کے معاہدوں کا صرف انہیں کو فائدہ پہنچے گا اور کریبین کرکٹ کو اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کا ڈیجی سیل سے ساڑھے دس ملین پاؤنڈ کا معاہدہ ہوا ہے جو کہ بورڈ کی تاریخ میں سب سے بڑا معاہدہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||