جواریوں نے رابطہ کیا تھا: فلیمنگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیوزی لینڈ کے کپتان سٹیفن فلیمنگ نے انکشاف کیا ہے کہ 1999میں بھارت کے ایک جواری نے اس کومیچ فکسنگ گروہ میں شامل کرنے کے لیے تین لاکھ پونڈ کی رقم کی پیشکش کی تھی۔ سٹیفن فلیمنگ نے اپنی سوانح عمری میں لکھا ہے کہ 1999 کے ورلڈ کپ کے دوران برطانیہ کے شہر لیسٹر کے ایک ہوٹل میں بھارت کے ایک باشندے نے اس کو پیشکش کی تھی کہ وہ میچ فکسنگ کرنے والے گروہ میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔ سٹیفن فلیمنگ نے کہا ہے کہ بھارتی باشندے ایشم چیھترپال جو ٹیلیوژن پروموٹر کے طور پر کام کرتے ہیں،نے اسے پیشکش کی تھی کہ اگر وہ اس گروپ میں شامل ہو جائے تو وہ فوراً ان کو دو لاکھ پونڈ کی رقم ادا کرنے کے لیے تیار ہیں اور مزید ایک لاکھ پونڈ کی رقم ایک سال کے دوران ان کو مہیا کر دیں گے۔ ایشم چیھترپال نے نیوزی لینڈ کے کپتان کو بتایا تھا کہ وہ اگر دیکھنا چاہتے ہیں کہ مال کہاں ہے تو ان کو جواریوں کے گروہ میں شامل ہونا پڑے گا۔ چیھترپال، جن کو بھارتی جواری سنجیو چاولہ کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے ، نے سٹیفن فلیمنگ کو کہا کہ انہوں نے دیکھا ہوگا کہ فٹبال کے مشہور کلب مانچسٹر یونائٹیڈ کے پرستار پچھلے دن اتنے پریشان کیوں تھے اور اندرے اگاسی کیوں شروع ہی میں ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے تھے۔ چیھترپال نے سٹیفن فلیمنگ کو بتایا کہ ساری دنیا میں ایسے لوگ ہیں جن کو وہ کسی بھی وقت فون کر سکتے ہیں۔ سٹیفن فلیمنگ نے کہا کہ انہوں نے چیھترپال کو بتایا کہ وہ ایسے کسی گروہ میں شامل نہیں ہونا چاہتے اور نہ ہی وہ اس بارے میں آئندہ بات کرنا پسند کریں گے۔ نیوزی لینڈ کے کپتان نے کہا کہ انہوں نے اس پیشکش کے بارے میں اپنی ٹیم کے منیجر جان گراہم کو مطلع کر دیا تھا اور 2000 میں اس نے سکاٹ لینڈ یارڈ کو اس بارے میں ایک بیان بھی ریکارڈ کرایا تھا۔ برطانوی پولیس سکاٹ لینڈ یارڈ کے اہلکاروں نے تحقیق کی غرض سے نیوزی لینڈ کا دورہ بھی کیاتھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||