یوتھ فیسٹیول: افغان دستہ روانہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیر کے روز سے لکھنؤ میں شروع ہونے والے اولمپکس یوتھ فیسٹیول میں شرکت کے لیے افغان کھلاڑیوں کا ایک دستہ کابل سے روانہ ہوا ہے۔ گیارہ کھلاڑیوں پر مشتمل یہ دستہ جمعہ کو بذریعہ طیارہ کابل سے دہلی کے لیے روانہ ہوا۔ ان افغان کھلاڑیوں میں نو جوڈو پلیئرز، ایک سو میٹر میں حصہ لینے والی خاتون ایتھلیٹ اور ایک ٹبیل ٹینس کا کھلاڑی شامل ہے۔ جوڈو پلیئرز میں سے چار لڑکیاں ہیں۔ اس کے علاوہ پہلی افغان جوڈو انسٹرکٹر تفصیر اور ناروے سے تعلق رکھنے والے افغان اولپمک کمیٹی کے ایڈوائزر سٹِگ ٹریوِک بھی بطور منیجر ٹیم کے ساتھ گئے ہیں۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے منیجر سٹِگ نے کہا کہ ان کے لیے اہم بات یہ ہے کہ افغان ٹیموں کو علاقائی مقابلوں میں مدعو کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا: سٹِگ ناروے کی قومی جوڈو ٹیم میں شامل تھے اور انیس سو بانوے کے اولپمک کھیلوں میں شرکت کر چکے ہیں۔ سٹِگ نے بتایا کہ یہاں آنے والے زیاد تر بچے والدین کے سایے سے محروم ہیں۔ جب دو سال قبل ان کے لیے قائم پرورشگاہ میں لڑکوں کے لیے جوڈو کی تربیت شروع ہوئی تو لڑکیوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں بھی جوڈو سکھایا جائے۔ اس پر بیرون ملک سے خواتین تربیت کاروں کو بلایا گیا جنہوں نے یہاں آکر تربیت دی۔ تربیت حاصل کرنے والی افغان خواتین میں سے ایک تفصیر بھی ہیں جو اب جوڈو انسٹرکٹر کے طور پر کاروان سرا کے جیمخانے میں تربیت دے رہی ہیں۔ یہاں ساٹھ ستر بچے جوڈو سیکھنے آتے ہیں۔ جوڈو پلیئر ہارون کے پاس اورنج بیلٹ ہے۔ وہ پر امید ہیں کہ کوئی میڈل ضرور لے کر آئیں گے۔ ایک اور کھلاڑی محمد سیاہ پوش نے کہا کہ وہ انڈین کھلاڑیوں سے کابل میں دو بار مقابلہ کر چکے ہیں۔ پہلے مقابلے میں وہ دوئم آئے تھے اور دوسرے میں انہیں اول انعام ملا تھا۔ عائشہ خود تو ٹیم کے ساتھ انڈیا نہیں جا رہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھیوں نے مقابلے کے لیے خاصی مشق کی ہے۔ اس فیسٹیول کی افتتاحی تقریبات اتوار کو ہوں گی جبکہ مقابلے پیر کو شروع ہوں اور بدھ تک جاری رہیں گے۔ ان میں دوسرے علاقائی ملکوں کے کھلاڑی بھی شرکت کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||