جسم فروشوں کا کامیاب ’گول‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوئٹے مالا کی جسم فروشوں نے ایک فٹ بال ٹیم بنائی ہے جو اگرچہ ہر مرتبہ جیتتی نہیں لیکن کم از کم وہ اپنے پیشے کے نامناسب حالات کو ضرور اجاگر کرتی ہے۔ حال ہی میں گوئٹے مالا کی پولیس کی ٹیم نے جسم فروشوں کی ٹیم سٹارز آف دی ٹریکس کو ایک کے مقابلے میں تین گول سے شکست دی ہے۔ لیکن اس میں زیادہ شہرت جسم فروشوں کی ٹیم کو ہی ملی۔ ٹیم کی طرف سے واحد گول کرنے والی والیریا کہتی ہیں کہ ’لوگ ہمارے پاس ہمیں مبارکباد دینے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اچھا کام جاری رکھیں‘۔ اگرچہ ان کے پیشے کی گوئٹے مالا میں قانونی حیثیت ہے لیکن پھر بھی اس سے وابستہ خواتین سیکس کے عوض کم از کم 2.5 ڈالر تک کماتی ہیں اور انہیں پولیس حراساں بھی کرتی ہے۔ ٹیم کی ڈیفینڈر (دفاعی کھلاڑی) بیٹریز کہتی ہیں کہ ’متحد رہنے کی طاقت کو محسوس کرنا اچھا لگتا ہے‘۔ ’جب ہم کام کرتے ہیں تو ہم اپنے کمروں میں تنہا ہوتے ہیں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||