بھارت 217 رن سے شکست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے شہر بنگلور میں آسٹریلیا اور میزبان ٹیم کے درمیان پہلے ٹیسٹ میچ کے پانچویں روز بھارتی ٹیم 239 رن بنا کر آؤٹ ہو گئی اور یوں آسٹریلیانے 217 رن سے یہ میچ جیت لیا ہے۔ ٹیسٹ میچ کے چوتھے روز آسٹریلیا کی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں 228 رن بنا کر آل آؤٹ ہو گئی۔ اس طرح بھارت کو پہلا ٹیسٹ میچ جیتنے کے لیے مجموعی طور پر 457 رن درکار تھے۔ میچ کے پانچویں روز بھارت کی طرف سے راہول ڈراوڈ اور عرفان پٹھان نے کھیل شروع کیا۔ لیکن راہول ڈراوڈ ساٹھ رن بنا کر کاسپرووچ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ اس وقت بھارت کا سکور 118 تھا۔ ان کے بعد انیل کمبلے کو بھی کاسپرووچ نے دو رن پر بولڈ کر دیا۔ بھارت کے آؤٹ ہونے والے نویں کھلاڑی عرفان پٹھان تھے جنہوں نے اس اننگز میں اپنی پہلی نصف سنچری مکمل کی۔ وہ پچپن رن بنا کر گلسپی کی گیند پر گلکرسٹ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ بھارت کے آؤٹ ہونے والے آخری کھلاڑی ہربجن سنگھ تھے جو بیالیس رن بنا کر گلسپی کی گیند پر میگرا کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ میچ کی اہم باتوں میں فاتح ٹیم کے مائیکل کلارک کی اپنے کیریئر کے پہلے میچ کی پہلی اننگز میں سنچری اور بھارت کے سپنر انیل کمبلے کا چار سو وکٹیں مکمل کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ بھارت کے ہربجن سنگھ نے میچ میں گیارہ وکٹ بھی حاصل کیے ہیں۔ میچ کے چوتھے روز بھارت کی طرف سے دوسری اننگز کے آغاز میں ہی وریندر سہواگ کوئی رن بنائے بغیر میگرا کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے اور ان کی جگہ نائب کپتان راہول ڈراوڈ کھیلنے آئے۔ بھارت کے آؤٹ ہونے والے دوسرے کھلاڑی آکاش چوپڑا تھے جو پانچ رن بنا کر گلسپی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ ان کی جگہ کپتان سورو گنگولی کھیلنے آئے اور وہ بھی صرف پانچ رن بنا کر رن آؤٹ ہو گئے۔ بھارت کے آؤٹ ہونے والے چوتھے کھلاڑی وی وی ایس لکشمن تھے جو تین رن بنا کر وارن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ اس موقع پر بھارتی ٹیم انتہائی دباؤ کا شکار ہو گئی کیونکہ انیس رن کے انتہائی مختصر سکور پر اس کے چار ٹاپ پلیئر آؤٹ ہو چکے تھے۔ لکشمن کے بعد یوراج سنگھ اور پارتھیو پٹیل کو بالترتیب میگرا اور وارن نے آؤٹ کر ڈالا اور بھارت کے لیے دوبارہ سنبھلنا دشوار دکھائی دینے لگا۔ آسٹریلیا کی طرف سے میگرا، کاسپرووچ، گلسپی اور وارن نے بھارت کی دوسری اننگز میں دو دو وکٹ حاصل کیے۔ بھارت کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں آسٹریلیا کے 474 کے جواب میں 246 رن بنا کر آؤٹ ہو گئی تھی اور یوں آسٹریلیا کو پہلی اننگز میں 228 رن کی سبقت حاصل ہوگئی تھی۔ میچ کے تیسرے دن کے اختتام پر آسٹریلیا نے اپنی دوسری اننگز میں 127 رن بنائے تھے اور اس کے چار کھلاڑی آؤٹ ہوئے تھے۔ آسٹریلیا کی دوسری اننگز کے پہلے ہی اوور میں آسٹریلیا کے اوپنر لینگر کوئی رن بنائے بغیر عرفان پٹھان کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ ہیڈن کو ہربجن سنگھ نے رن آؤٹ کیا جبکہ کیٹک کمبلے کی گیند پر ڈراوڈ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔کیٹک نے انتالیس رن بنائے۔ آؤٹ ہونے والے چوتھے کھلاڑی لہمین تھے۔ کھیل ختم ہونے پر کلارک اور مارٹن کھیل رہے تھے۔ سن انیس سو انہتر ستر میں بھارت ہی میں بھارت کی ٹیم کو ہرانے کے بعد چار مرتبہ آسٹریلوی کپتان یہ اعزاز حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ دونوں ٹیموں کے درمیان دو ہزار ایک دو میں ٹیسٹ سیریز ہوئی تھی جو حسب روایت بھارت کے حق میں رہی اور بھارت نے دوسرا اور تیسرا ٹیسٹ میچ جیتا۔ اس دفعہ رکی پونٹنگ کی نگرانی میں ٹیم میں کافی ایکسپرٹ بالر اور بیٹسمین شامل ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ یہ بھارت میں میچ ہارنے کی روایت توڑنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||