قومی کھیل میں فوج سب سے آگے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انتیسویں قومی کھیل منگل کے روز یہاں اختتام پذیر ہوئے ہیں جس میں پاکستان آرمی نے مجموعی طور پر سب سے زیادہ میڈلز حاصل کیے جبکہ واپڈا کی ٹیم دوسرے نمبر پر رہی ہے۔ پاکستان آرمی نے مجموعی طور پر اکسٹھ مییڈل حاصل کیے ہیں جن میں سونے کے بائیس اور چاندی کے پچیس تمغے شامل ہیں۔ واپڈا کی ٹیم دوسرے نمبر پر رہی جس نے مجموعی طور پر اڑتالیس تمغے حاصل کیے ہیں جن میں انیس سونے کے اور بارہ چاندی کے تمغے شامل ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ خواتیں کے کھیلوں میں واپڈا کی ٹیم اٹھائیس تمغوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہی ہے جبکہ آرمی تیئس تمغوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی ہے۔ واپڈا کی ایک نویں جماعت کی طالبہ کرن خان نے تیراکی کے گیارہ ایونٹس میں شرکت کی ہے اور گیارہ سونے کے تمغے حاصل کیے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کے والد ان کے کوچ ہیں جو انھیں تربیت فراہم کرتے ہیں اور اب آئندہ وہ سیف گیمز اور اولمپک کی تیاری کریں گی۔ ان کھیلوں میں صوبوں کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے صرف صوبہ پنجاب نے ایک کانسی کا تمغہ حاصل کیا ہے باقی تینوں صوبوں نے کچھ نہیں جیتا۔ ایک عہدیدار نے اس کی وجہ وسائل کی کمی بتائی ہے۔ ایک کھیل کی تنظیم کو سالانہ چودہ ہزار روپے دیے جاتے ہیں جس میں ٹورنامنٹ منعقد کرنا اور کھلاڑیوں کو سہولتیں فراہم کرنا اور دیگر اخراجات شامل ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ محکمے اپنی ٹیموں اور کھلاڑیوں پر خرچہ کرتے ہیں اس وجہ سے ان کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ اختتامی تقریب کوئٹہ کے ایوب سٹیڈیم میں منعقد ہوئی ہے جس میں کوئی بہتر انتظامات دیکھنے کو نہیں ملے۔ اختتامی تقریب میں کچھ دوڑوں کے مقابلے ہوئے ہیں اس کے علاوہ بزکشی کا نمائشی میچ دکھایا گیا ہے اس کے علاوہ عارف لوہار کیپرفارمنس کے بعد آتش بازی کا مظاہرہ تھا۔ کھلاڑیوں نے بھی ان چھ روزہ کھیلوں کے دوران بد انتظامی کی شکایت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ انھیں بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی گئیں۔ ایک ایک کمرے میں کئی کھلاڑیوں کو رکھا گیا تھا۔ سب سے بڑھ کر ایتھلیٹکس کی دوڑوں کے لیے ٹرٹن ٹریک ہی نہیں تھا۔ اس بارے میں کھیلوں کے محکمے کے اہلکار نے بتایا ہے کہ ٹرٹن ٹریک ایوب سٹیڈیم کی بجائے چھاؤنی کے علاقے میں آرمی سٹیڈیم میں بچھایا جا رہا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ چھاؤنی کے علاقے میں بغیر اجازت نامے کے عام آدمی کو داخل نہیں ہونے دیا جاتا اس کے لیے کینٹونمنٹ بورڈ سے باقاعدہ اجازت لی جاتی ہے تو کھیلوں کے لیے وہاں کون جائے گا |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||