خواتین مردوں سے آگے نکلنے والی ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں سائنسدانوں نے پیشنگوئی کی ہے کہ مسقبل میں خواتین ایتھلیٹ مرد اتھلیٹوں سے آگے نکل جائیں گی۔ آکسفورڈ یورنیورسٹی اور سوتھمٹن یونیورسٹی میں تحقیق کرنے والوں نے ایک سو سال میں ہونے والی اولمپک کھیلوں میں خواتیں ایتھلیٹ کی کارکردگی کو تجزیہ کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ عورتیں مردوں سے زیادہ ترقی کر رہی ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق خواتین اگر اسی رفتار سے ترقی کرتی رہیں تو وہ ایک سو سال سے لے ڈیڑہ سو سال تک مرد ایتھلیٹوں کو پیچھپے چھوڑ دیں گیں۔ تحقیق کے مطابق خواتین کھلاڑی اب مردوں کھلاڑیوں کے بلکل قریب آ چکی ہیں۔ تحقیق کے مطابق 1928 اولمپک میں سو میٹر کی دوڑ میں مرد اور خواتین ایتھلیٹوں کے وقت میں ایک اعشاریہ چار سیکنڈ کا فرق تھا جو اب گھٹ کر بمشکل ایک سکینڈ رہ چکا ہے۔ البتہ بی بی سی کے سائنسی نامہ نگار کے مطابق خواتین ایتھلیٹ مردوں سے تیز بھاگنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ ان کے مطابق مطابق تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے کئی چپزوں کو ذہن میں رکھے بغیر یہ نتجہ اخذ کر لیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||